Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / لشکرطیبہ اور جماعت الدعوۃ کے عسکریت پسند محب وطن

لشکرطیبہ اور جماعت الدعوۃ کے عسکریت پسند محب وطن

دونوں دہشت گرد گروپس سے اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں ‘سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کا بیان
کراچی ۔ 17 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ دہشت گرد تنظیموں کو محب وطن قرار دیتے ہوئے سابق فوجی ڈکٹیٹر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ پاکستان کے ’’ تحفظ اور صیانت ‘‘ کیلئے اُن سے اتحاد کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کی ایک اطلاع کے بموجب 74سالہ وظیفہ یاب جنرل جو دبئی میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ لشکر طیبہ اور اس کے بانی حافظ سعید کے سب سے بڑے حامی ہیں ۔ حافظ سعید کو ممبئی دہشت گرد حملوں کا کلیدی سازشی سمجھا جاتا ہے جن کی تنظیم جماعت الدعوۃ پر پاکستان میں امتناع عائد کیا جاچکا ہے ۔ فوجی خبر رساں چینل نے جنرل پرویز مشرف کے حوالہ سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں مبینہ طور پر جنرل مشرف نے کہا کہ وہ ( لشکرطیب اور جماعت الدعوۃ ) محب وطن لوگ ہیں ‘ انتہائی محب وطن ہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگیاں کشمیر کیلئے پاکستان میں ضائع کی ہے ۔ اے آر وائی خبر رساں چینل نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے بموجب لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ انتہائی محب وطن ہیں ۔ انہوں نے پاکستان میں کشمیرکیلئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہیں ۔ لشکر طیبہ کو 2008ء کے بعد جب کہ ممبئی دہشت گرد حملہ میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے ‘ ممنوعہ قرار دیا گیا تھا جب کہ جماعت الدعوۃ کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم جون 2014ء میں امریکہ نے قرار دیا ۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی دہشت گرد حملہ کی سازش کی تھی ۔ گذشتہ ماہ انکشاف ہوا کہ ان کے سیاسی عزائم کا رسمی اعلان کیا گیا جس میں ان کا گروپ انتخابات میں جون 2018ء کے عام انتخابات کے دوران حصہ لے گا اور ملی مسلم لیگ کے پرچم تلے یہ کارروائی کی جائے گی ۔ سابق فوجی حکمراں نے مزید کہا کہ تاحال دونوں گروپس نے ان سے ربط پیدا نہیں کیا لیکن اگر وہ ان کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ مشرف نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ایک عظیم سیاسی اتحاد تشکیل دیا جائے گا ۔ اس کیلئے ایک مشاورتی اجلاس 24 سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں پر مشتمل بلایا جائے گا ‘ تاہم کئی پارٹیوں نے اپنے آپ کو مشرف کی پاکستان عوامی اتحاد سے لاتعلق قرار دیا ۔ مشرف نے کارگل تنازعہ کی سازش کی تھی اس کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو ایک بغاوت میں 1999ء میں اقتدار سے بے دخل کردیا تھا ‘ وہ پاکستان پر 9سال حکمرانی کرتے رہے ‘ انہیں کئی عدالتی مقدمات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے 2013ء میں پاکستان کے انتخابات میں حصہ لینے کی ناکام کوشش کی تھی کیونکہ ان کے خلاف کئی مقدمات جاری تھے ۔ بعد ازاں گذشتہ پانچ سال سے وہ دبئی میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام الزامات کا سامنا کرنے تیار ہیں کیونکہ عدالتیں اب ’’نواز شریف کے کنٹرول میں نہیں ہیں‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT