Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / لشکرطیبہ نے بال ٹھاکرے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی ‘ ہیڈلی

لشکرطیبہ نے بال ٹھاکرے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی ‘ ہیڈلی

تنظیم نے ہندوستان کے تعلق سے موقف نرم نہیں کیا تھا ‘ پاکستانی امریکی دہشت گرد کا عدالت میں بیان
ممبئی 24 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی نے آج ایک عدالت سے کہا کہ لشکرطیبہ ‘ شیوسینا لیلار بال ٹھاکرے کو قتل کرنا چاہتی تھی ۔ ہیڈلی نے کہا کہ جس شخص کو بال ٹھاکرے کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی اسے پولیس نے گرفتار کرلیا تھا تاہم وہ بعد میں پولیس کو چکمہ دینے میں بھی کامیاب ہوگیا ۔ 55 سالہ ڈیوڈ ہیڈلی ممبئی بم دھماکوں کے مقدمہ کا ملزم تھا تاہم بعد میں وہ گواہ معافی یافتہ بن گیا تھا ۔ ہیڈلی نے 2008 میں ہوئے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں کلیدی سازش رچنے کے الزام کا سامنا کرنے والے ابو جندال کے وکیل عبدالوہاب خان کی جرح کے دوران یہ بات بتائی ۔ ہیڈلی پر امریکہ سے ایک ویڈیو لنک کے ذریعہ جرح کی گئی ۔ ہیڈلی نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ اس نے دو مرتبہ سینا بھون کا دورہ کیا تھا تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نے کون سے سال یہ دورے کئے تھے ۔ ہیڈلی نے کہا کہ ہم ( لشکر طیبہ ) شیوسینا سربراہ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے ۔ ان کا نام بال ٹھاکرے تھا ۔ لشکرطیبہ جب کبھی موقع ملے انہیں ہلاک کرنا چاہتی تھی ۔ وہ جانتے تھے کہ بال ٹھکارے شیوسینا کے سربراہ ہیں۔ انہیں کوئی زیادہ اطلاع نہیں تھی تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ لشکرطیبہ کی جانب سے بال ٹھاکرے کو ہلاک کرنے کی ایک کوشش ضرور ہوئی تھی ۔ ہیڈلی نے کہا کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ کوشش کس طرح کی گئی تھی ۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس شخص کو بال ٹھاکرے کو ہلاک کرنے روانہ کیا گیا تھا وہ گرفتار کرلیا گیا تھا تاہم وہ پولیس تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ ہیڈلی نے کہا کہ اس معاملہ کی اسے تفصیلی اطلاع نہیں ہے ۔

ہیڈلی کو ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے سلسلہ میں امریکہ میں خاطی قرار دیتے ہوئے سزائیق ید سنائی گئی ہے ۔ اس نے خصوصی جج جی اے سانپ سے کہا کہ وہ نہیں جانتا کہ لشکرطیبہ کے نشانہ پر بال ٹھاکرے کے علاوہ اور کون کون تھے ۔ اس سوال پر کہ اس نے ممبئی دہشت گردانہ حملوں سے قبل ممبئی میں اپنی آمد اور یہاں معلومات حاصل کرنے کے کام پر اس نے کتنی رقم خرچ کی ہے ہیڈلی نے کہا کہ وہ قطعیت سے کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ کئی لاکھ روپئے اس نے خرچ کئے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ رقم 30 – 40 لاکھ ہو یا اس سے کم بھی ہو ۔ اس نے کہا کہ یہ درست ہے کہ آئی ایس آئی نے یہ رقم خرچ کی تھی لیکن یہ درست نہیں ہے کہ اس نے آئی ایس آئی سے یہ رقم طلب کی تھی ۔ ہیڈلی نے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد جب وہ ایک بار پھر مارچ 2009 میں ہندوستان آیا تھا القاعدہ کے لیڈر الیاس کشمیری نے اسے ایک لاکھ پاکستانی روپئے دئے تھے ۔ ہیڈلی کے بموجب مارچ 2009 میں القاعدہ نے اسے مزید حملوں کے امکان کا جائزہ لینے ممبئی روانہ کیا تھا ۔ اس نے ادعا کیا کہ ممبئی حملوں کے بعد لشکر طیبہ پر بین الاقوامی سطح پر نظر رکھی جانے لگی اور یہ بھی درست نہیں ہے کہ اس گروپ نے ہندوستان کے تعلق سے نرم رویہ اختیار کیا تھا ۔ ہیڈلی نے کہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ لشکر نے ڈنمار ک کے تعلق سے موقف کو نرم کرلیا تھا ہندوستان کے تعلق سے نہیں۔ ڈنمارک کے مسئلہ کے بعد ( الاقعدہ کی جانب سے ڈنمارک پر حملہ سے گریز کی صورت میں ) وہ ( ہیڈلی ) القاعدہ سے جڑ گیا تھا کیونکہ لشکر نے ڈنمارک مسئلہ پر نرم رویہ اختیار کرلیا تھا ۔ ہیڈلی نے عدالت سے کہا کہ وہ ممبئی حملوں کے 10 حملہ آوروں میں کسی سے بھی شخصی ملاقات نہیں کرسکا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT