Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / لشکرطیبہ کا حملہ :پاکستانی دہشت گرد فرار، دو پولیس ملازمین ہلاک

لشکرطیبہ کا حملہ :پاکستانی دہشت گرد فرار، دو پولیس ملازمین ہلاک

SRINAGAR, FEB 6 (UNI):- Security forces taking position soon after militants attacked a police party to free a Pakistani militant among the detenues taken for treatment in SMHS hospital killed a security personnel and injured another on Tuesday. UNI PHOTO-23U

سرینگر ہاسپٹل کامپلکس میں ڈرامائی واقعہ، کثیرمنزلہ تنگ گلیوں میں روپوش علاقہ کی ناکہ بندی اور تلاشی مہم کا آغاز

سرینگر ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) لشکرطیبہ کے عسکریت پسندوں نے جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت کے سخت ترین سیکوریٹی علاقہ میں واقع ایس ایم ایچ ایس ہاسپٹل کامپلکس میں ایک پولیس ٹیم کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر ایک سخت گیر پاکستانی دہشت گرد کو آزاد کروالیا۔ اس فائرنگ میں دو ملازمین پولیس ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ سرینگر کے سب سے بڑے دواخانہ کے احاطہ میں کئے گئے دیدہ دلیرانہ حملہ کے درمیان خوفناک دہشت گرد پولیس تحویل سے نکل کر تنگ گلیوں کے راستہ فرار ہوگئے۔ پولیس نے کہا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکرطیبہ کے 22 سالہ عسکریت پسند محمد نوید جھٹ کو 2014ء کے دوران جنوبی کشمیر کے علاقہ کلگام میں پکڑا گیا تھا جو آج حملہ آوروں کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس نے کہا کہ انتہاء پسندوں نے جھٹ کو دواخانہ لانے والی پولیس ٹیم پر حملہ کردیا تھا۔ جھٹ عرف ابو حنزلہ کو بغرض علاج کاکا سرائے میں واقع اس مصروف ترین ہاسپٹل لایا گیا تھا۔ وہی دواخانہ جو دوپہر کے کھانے کے وقفہ سے قبل مریضوں کے ہجوم کے سبب کافی مصروف رہتا ہے۔ اس دوران کئے گئے لشکرطیبہ کے حملے میں ہیڈکانسٹیبل مشتاق احمد ہلاک ہوگئے۔ ان کے ساتھی کانسٹیبل بابراحمد کو شدید زخمی حالت میں دواخانہ میں شریک کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس ایس پی وید نے کہا کہ ’’یہ انتہائی بدبختانہ واقعہ ہے اور دہشت گرد اپنے ایک انتہائی خوفناک ساتھی کو لیکر فرار ہوگئے۔ اس جرائم میں ملوث تمام مجرمین کی گرفتاری کیلئے سخت چوکسی اختیار کی گئی ہے‘‘۔ ڈپٹی آئی جی غلام حسن بھٹ نے حملے کے مقام کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ پولیس ٹیم آج بشمول جھٹ چھ قیدیوں کو بغرض علاج دواخانہ منتقل کی تھی۔ عینی شاہدین نے کہا کہ پولیس ٹیم جیسے ہی جھٹ اور دیگر پانچ قیدیوں کے ساتھ اس دواخانہ کے آوٹ پیشنٹ بلاک کے باہر گاڑی اتری عسکریت پسندوں نے فائرنگ کا آغاز کردیا، جہاں یہ عسکریت پسند دواخانہ کے پارکنگ زون میں موقع کا انتظار کررہے تھے۔ لشکرطیبہ کے دو عسکریت پسند پولیس پارٹی پر گولیوں کی بوچھار کرتے ہوئے وسطی سرینگر کی سمت فرار ہوگئے۔ سابق ریاست جموں و کشمیر کے آخری حکمراں آنجہانی ہری سنگھ سے موسوم یہ دواخانہ دریائے جہلم کے کنارے حکمت عملی کے حامل مقام پر واقع ہے۔

TOPPOPULARRECENT