Saturday , November 18 2017

لطائف

٭  ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصر الدین کے پاس پہنچا۔ملا نے اتفاقاً بڑی پگڑی پہنی ہوئی تھی پگڑی اس زمانے میں عالموں کی نشانی ہوتی تھی۔زمیندار نے ان کو خط پڑھنے کو کہا۔ ملا نے کہا: ’’میں خط نہیں پڑھ سکتا‘‘،زمیندار بولا:اتنی بڑی پگڑی باندھی ہوئی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے۔ ملا نے فورا پگڑی اپنے سر سے اُتار کر زمیندار کے سر پر کھ دی اور کہا:’’اب پگڑی تمھارے سر پر ہے خود ہی پڑھ لو اپنا خط‘‘۔
٭  استاد:ٹیسٹ یاد کیا؟شاگرد:جیسے ہی میں پڑھنے بیٹھا تو لائٹ چلی گئی۔بعد میں اس لیے نہیں بیٹھا کہ میری وجہ سے پھر لائٹ نہ چلی جائے۔
٭  حساب کے استاد نے شاگرد سے پوچھا ،’’مربع کسے کہتے ہیں؟‘‘شاگرد : جناب ! ایک کھانے کی مٹھائی جسے امی جان شیشے کے مرتبان میں رکھتی ہیں۔
٭  غائب دماغ پروفیسر ممبئی سے دہلی پہنچ کر ٹرین سے اترے تو برے برے منہ بنارہے تھے۔گھر پہنچ کر بیوی سے بولے۔’’تمہیں معلوم ہے کہ میں ٹرین میں سفر مجبوراً ہی کرتا ہوں اس بار جہاز میں سیٹ نہیں ملی تو ٹرین سے آنا پڑا۔اوپر سے ایسی سیٹ ملی کہ میری پیٹھ اس طرف تھی جس طرف ٹرین چل رہی تھی،جب بھی ٹرین میں ایسی سیٹ پر بیٹھنا پڑے تو طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔‘‘بیگم بولی: ’’ تو آپ سامنے والے مسافر سے سیٹ بدل لیتے۔‘‘پروفیسر : ’’سوچا تو میں نے بھی تھا لیکن سامنے والی سیٹ پر کوئی تھا ہی نہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT