Sunday , December 17 2017

لطائف

٭ استاد ( شاگرد سے ) ’’ اگر تم مغرب کی سمت مسلسل چلو تو بتاؤ کہاں پہنچ جاو گے ‘‘ شاگرد ’’ جناب میں غروب ہوجاوں گا ‘‘ ۔
٭ ایک ننھی بچی سے اس کے چچانے پوچھا ’’ بیٹی تمہارا آپریشن کیسارہا ؟ ‘‘بچی نے جوب دیا ، ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور ایسا ہی ہوا ، انہوں نے میرے بازو میں ایک سوئی چبھوئی اور میں غائب ہوگئی ۔
٭ بادشاہ نے درباری مسخرے کے آتے ہی کہا ’’ اچھا ہوا تم آگئے ، اس وقت میرا دل کسی مسخرے سے گفتگو کرنے کو چاہ رہا تھا ‘‘ ۔ مسخرے نے جواب دیا ’’ بادشاہ سلامت ! میں بھی یہی سوچ کر آپ کے پاس آیا ہوں ‘‘ ۔
٭ ایک بادشاہ نے کسی خوشی کے موقع پر سب قیدیوں کو رہا کرنے کاحکم دیا ۔ قیدی اسے سلام کرنے آئے ، ان میں ایک بوڑھا بھی تھا ۔ بادشاہ نے بوڑھے سے پوچھا ’’ بابا جی ! آپ یہاں کب سے قید ہیں ؟ ‘‘ بوڑھے نے جواب دیا ’’ آپ کے دادا کے زمانے سے ‘’ ۔ بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا ’’ اس بوڑھے کو پھر قید کردو یہ ہمارے بزرگوں کی نشانی ہے ۔ ‘‘
٭ ایک مداری تماشہ دکھارہا تھا ، اس نے ہجوم میں سے ایک لڑکے کو بلایا اور پوچھا ’’ لڑکے بتاو تم میرے رشتہ دار تو نہیں ؟ یا تم نے مجھے کہیں دیکھا تو نہیں ؟ ‘‘ لڑکے نے معصومیت سے جواب دیا ’’ جی نہیں ابا جان ‘‘ ۔
٭ بیٹا ( باپ سے ) ’’ ابا جان ! جب میں گانے لگتا ہوں تو آپ چھت پر کیوں چلے جاتے ہیں ؟ ‘‘ باپ ’’ تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں تمہاری پٹائی کررہا ہوں ۔ ‘‘
٭ استاد ( شاگرد سے ) ’’ پی ڈبلیو ڈی کا کیا مطلب ہے ؟ ‘‘ شاگرد ’’ پکوڑوں والی دکان ‘‘ ۔
٭ وکیل اب جبکہ میں نے تمہیں بری کروادیا ہے ، یہ تو بتاتے جاو کہ تم نے چوری کی تھی یا نہیں؟ ‘‘ چور ’’ عدالت میں آپ کی بحث سن کر مجھے یقین ہوگیا ہے کہ میں نے چوری نہیں کی ۔ ‘‘
٭ بیٹا ’’ اباجان ! میرے دوست کی شادی ہے اسے کیا تحفہ دوں ؟ باپ ’’ بیٹا ! انگوٹھی دے دو ‘‘ ۔ بیٹا ’’ اباجان ! انگوٹھی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ نظر ہی نہیں آئے گی ‘‘ ۔ باپ تو پھر ’’ سائیکل کا ٹائر دے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT