Wednesday , January 17 2018

لطائف

٭ دھوبی اپنے گاہک سے : پیسے دے دیں ۔ گاہک : لیکن میرے کپڑے تو تم نے گم کر دیئے ہیں ۔ دھوبی : بھائی صاحب کپڑے دھل جانے کے بعد گم ہوئے ہیں ۔ ٭ بیٹا (کنجوس باپ سے ) ’’ ابا میری دور کی نظر کمزور ہوگئی ہے ‘‘باپ : (بیٹے کو باہر لے جا کر ) ’ وہ دیکھو! سامنے کیا ہے ‘‘ ۔ بیٹا : ’’ سورج ‘‘باپ : ’’بیٹا اب اور کتنی دور دیکھنا چاہتے ہو ‘‘

٭ دھوبی اپنے گاہک سے : پیسے دے دیں ۔ گاہک : لیکن میرے کپڑے تو تم نے گم کر دیئے ہیں ۔ دھوبی : بھائی صاحب کپڑے دھل جانے کے بعد گم ہوئے ہیں ۔
٭ بیٹا (کنجوس باپ سے ) ’’ ابا میری دور کی نظر کمزور ہوگئی ہے ‘‘باپ : (بیٹے کو باہر لے جا کر ) ’ وہ دیکھو! سامنے کیا ہے ‘‘ ۔ بیٹا : ’’ سورج ‘‘باپ : ’’بیٹا اب اور کتنی دور دیکھنا چاہتے ہو ‘‘
٭ استاد تم نے ’’میری پالتو بلی‘‘ پر مضمون بالکل اپنے بھائی جیسا لکھا ہے ‘‘ ‘بچہ : ’’جی سر ! کیونکہ ہمارے پاس ایک ہی بلی ہے ‘‘
٭ ایک ہپی جس نے پانچ سال سے بال نہیں کٹوائے تھے حجام کی دکان میں داخل ہوا اور کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔ ’’ڈاکٹر نے کہا ہے کہ مجھے اپنا وزن کم از کم 10 پاؤنڈ کم کرلینا چاہئے لہذا میرے بال کاٹ دو‘‘
٭ جج (ملزم سے ) تم نے اس کا ہاتھ کیوں جلایا ‘‘ ؟ملزم : ’’ جناب میں اس کے پاس نوکری کیلئے گیا تو اس نے مجھے کہا کہ پہلے میرا ہاتھ گرم کرو ۔ لہذا میں نے اس کے ہاتھ پر جلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT