Monday , September 24 2018

لطائف

٭ مچھر کے بچے نے نیا نیا اڑنا سیکھا تھا۔ اڑان بھر کے جب وہ واپس آیا تو اس کے باپ نے پوچھا : ’’اڑ کر کیسا لگا؟‘‘ بچہ بولا : ’’بہت مزا آیا۔ ہر کوئی مجھے دیکھ کر تالیاں بجا رہا تھا‘‘۔ ٭ استاد : شاگرد سے! بتاؤ بے کار کسے کہتے ہیں؟شاگرد : جس کے پاس کار نہ ہو۔

٭ مچھر کے بچے نے نیا نیا اڑنا سیکھا تھا۔ اڑان بھر کے جب وہ واپس آیا تو اس کے باپ نے پوچھا : ’’اڑ کر کیسا لگا؟‘‘ بچہ بولا : ’’بہت مزا آیا۔ ہر کوئی مجھے دیکھ کر تالیاں بجا رہا تھا‘‘۔
٭ استاد : شاگرد سے! بتاؤ بے کار کسے کہتے ہیں؟شاگرد : جس کے پاس کار نہ ہو۔
٭ جج (ملزم سے) : ’’ تم نے اس کا ہاتھ کیوں جلایا؟‘‘،ملزم : ’’جناب میں اس کے پاس نوکری کیلئے گیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ پہلے میرا ہاتھ گرم کرو، لہٰذا میں نے اس کے ہاتھ پر جلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا‘‘۔
٭ مالک : ’’تم چاول بلی کو کیوں کھلارہے ہو؟ میں نے تمہیں مرغی کو چاول کھلانے کو کہا تھا؟‘‘نوکر : ’’جناب! مرغی، بلی کے پیٹ میں ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT