Saturday , January 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / لطف و قہر او سراپا رحمتے

لطف و قہر او سراپا رحمتے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو فرد خاندان تھے اور جن کو علم و اقفیت کے ذرائع اور مواقع حاصل تھے اور جن کی نظر نفسیات انسانی اور اخلاق کی باریکیوں پر بہت گہری تھی، قریب ترین اشخاص میں سے تھے اور اسی کے ساتھ وصف و بیان اور منظر کشی پر بھی آپ کو سب سے زیادہ قدرت تھی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’آپﷺ طب

حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو فرد خاندان تھے اور جن کو علم و اقفیت کے ذرائع اور مواقع حاصل تھے اور جن کی نظر نفسیات انسانی اور اخلاق کی باریکیوں پر بہت گہری تھی، قریب ترین اشخاص میں سے تھے اور اسی کے ساتھ وصف و بیان اور منظر کشی پر بھی آپ کو سب سے زیادہ قدرت تھی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’آپﷺ طبعاً بدکلامی، بے حیائی اور بے شرمی سے دور تھے اور تکلفاً بھی ایسی کوئی بات آپ سے سرزد نہ ہوتی تھی۔ بازاروں میں آپﷺ کبھی آواز بلند نہ فرماتے، برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیتے، بلکہ عفو و درگزر کا معاملہ فرماتے۔ آپﷺ نے کسی پر کبھی دست درازی نہ فرمائی، سوائے اس کے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا موقع ہو، کسی خادم یا عورت پر آپ نے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔ میں نے آپﷺ کو کسی ظلم و زیادتی کا انتقام لیتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، جب تک کہ اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی نہ ہو اور اس کی حرمت و ناموس پر آنچ نہ آئے۔ ہاں اگر اللہ تعالی کے کسی حکم کو پامال کیا جاتا اور اس کے ناموس پر حرف آتا تو آپﷺ اس کے لئے ہر شخص سے زیادہ غصہ ہوتے۔ دو چیزیں سامنے ہوتیں تو ہمیشہ آسان چیز کا آپﷺ انتخاب فرماتے۔ جب اپنے دولت خانے پر تشریف لاتے تو عام انسانوں کی طرح نظر آتے، اپنے کپڑوں کو صاف کرتے، بکری کا دودھ دوہتے اور اپنے سب ضرورتیں خود انجام دیتے۔
اپنی زبان مبارک محفوظ رکھتے اور صرف اس چیز کے لئے کھولتے، جس سے آپﷺ کو کچھ سروکار ہوتا۔ لوگوں کی دلداری فرماتے اور ان کو متنفر نہ کرتے۔ کسی قوم و برادری کا معزز شخص آتا تو اس کے ساتھ اکرام و اعزاز کا معاملہ فرماتے اور اس کو اچھے و اعلی عہدہ پر مقرر کرتے۔ لوگوں کے بارے میں محتاط تبصرہ کرتے، بغیر اس کے کہ اپنی بشاشت اور اخلاق سے ان کو محروم فرمائیں۔ اپنے اصحاب کے حالات سے باخبر رہتے، لوگوں سے ان کے معاملات کے بارے میں دریافت کرتے رہتے۔

اچھی بات کی اچھائی بیان کرتے اور اس کو قوت پہنچاتے، اسی طرح بری بات کی برائی کرتے اور اس کو کمزور کرتے۔ آپﷺ کا معاملہ معتدل اور یکساں تھا، اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا تھا۔ آپﷺ کسی کی بات سے غفلت نہ فرماتے تھے، اس ڈر سے کہیں دوسرے لوگ بھی غافل ہونے لگیں اور اکتا جائیں۔ ہر حال اور ہر موقع کے لئے آپﷺ کے پاس اس حال کے مطابق ضروری سامان تھا، نہ حق کے معاملے میں کوتاہی فرماتے اور نہ حد سے آگے بڑھتے۔ آپﷺ کے قریب جو لوگ رہتے تھے، وہ سب سے اچھے اور منتخب ہوتے تھے۔ آپﷺ کی نگاہ میں سب سے زیادہ افضل وہ تھا، جس کی خیر خواہی اور اخلاق عام ہو۔ سب سے زیادہ قدر و منزلت اس کی تھی، جو غم خواری و ہمدردی اور دوسروں کی مدد و معاونت میں سب سے آگے ہو۔ خدا کا ذکر کرتے ہوئے کھڑے ہوتے اور خدا کا ذکر کرتے ہوئے بیٹھتے۔ جب کہیں تشریف لے جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی اسی جگہ تشریف رکھتے اور اس کا حکم بھی فرماتے۔ اپنے حاضرین مجلس اور ہم نشینوں میں ہر شخص کو اپنی توجہ اور التفات میں سے حصہ دیتے، آپ کا شریک مجلس یہ سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر آپ کی نگاہ میں کوئی اور نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کو کسی غرض سے بٹھا لیتا یا کسی سلسلے میں آپﷺ سے گفتگو کرتا تو نہایت صبر و سکون سے اس کی پوری بات سنتے، یہاں تک کہ وہ خود ہی اپنی بات کرکے رخصت ہوتا۔ اگر کوئی شخص آپ سے کچھ سوال کرتا اورکچھ مدد چاہتا تو بلا اس کی ضرورت پوری کئے واپس نہ فرماتے، یا کم از کم نرم و شیریں لہجے میں جواب دیتے۔ آپﷺ کا حسن اخلاق تمام لوگوں کے لئے وسیع اور عام تھا اور آپ ان کے حق میں باپ ہو گئے تھے۔ تمام لوگ حق کے معاملے میں آپﷺ کی نظر میں برابر تھے۔ آپ کی مجلس، علم و معرفت، شرم و حیا، صبر اور امانت داری کی مجلس تھی۔ نہ اس میں آواز بلند ہوتی تھی، نہ کسی کے عیوب بیان کئے جاتے تھے۔ نہ کسی کی عزت و ناموس پر حملہ ہوتا، نہ کمزوریوں کی تشہیر کی جاتی تھی۔ سب ایک دوسرے کے مساوی تھے اور صرف تقویٰ کے لحاظ سے ان کو ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہوتی تھی۔ اس میں لوگ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں کے ساتھ رحم دلی و شفقت کا معاملہ کرتے تھے، حاجت مند کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے، مسافر اور نووارد کی حفاظت کرتے اور اس کا خیال رکھتے تھے‘‘۔

واضح رہے کہ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف وہ شمائل و خصائل ہیں، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قریب دیکھنے والے حضرات نے بیان کئے ہیں، ورنہ آپﷺ کے اوصاف و اخلاق، عادات و اطوار اور سیرت کے بے شمار راوی ہیں، جن کے بیانات سے سیرت کی کتابیں بھری ہوئی ہیں، خاص طورپر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رافت و رحمت کے تذکرے تو زبان زد خاص و عام ہیں۔ آپﷺ کی رافت و رحمت مسلمانوں کے لئے تو ہیں ہی، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے: ’’بالمؤمنین رؤف رحیم‘‘ لیکن یہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرہ دنیا کے تمام انسانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ دوست دشمن سب آپﷺ کی چادر رحمت میں آسودہ نظر آتے ہیں۔ علامہ اقبال نے خوب کہا ہے:
لطف و قہر او سراپا رحمتے
آں بیاراں ، ایں باعدا رحمتے
یعنی آپ کا لطف و کرم بھی سراپا رحمت ہے اور آپ کا قہر و غضب بھی سراپا رحمت ہے۔ وہ دوستوں کے لئے رحمت ہیں اور یہ دشمنوں کے لئے رحمت ہے۔
انسانوں سے گزرکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رافت و رحمت حیوانات و نباتات تک پھیلی ہوئی تھی۔ کمزور لوگوں اور بے زبان جانوروں تک سے آپﷺ نرمی کا حکم فرماتے۔ ایک شخص نے بکری ذبح کرنے کے لئے لٹائی، اس کے بعد چھری تیز کرنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ’’کیا اس بکری کو دو بار مارنا چاہتے ہو؟ اس کو لٹانے سے پہلے چھری تیز کیوں نہ کرلی!‘‘۔ آپﷺ نے جانوروں کو چارہ اور پانی دینے کی ہدایت فرمائی، ان کو پریشان کرنے اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ لادنے کی مخالفت فرمائی۔ جانوروں کی تکلیف دور کرنے، ان کو آرام پہنچانے کو باعث اجر و ثواب اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ قرار دیا۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT