Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / للت مودی سے ملاقات‘ ممبئی کے کمشنر پولیس سے جواب طلبی

للت مودی سے ملاقات‘ ممبئی کے کمشنر پولیس سے جواب طلبی

ممبئی۔21جون ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فرنویس نے کہا کہ ممبئی پولیس کمشنر راکیش ماریا کو آئی پی ایل کے سابق سربراہ للت مودی سے لندن میں ملاقات کے بارے میں دیئے گئے بیان پر معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ راکیش ماریا سے ہم نے کہا ہے کہ میڈیا سے انہوں نے جو کچھ کہا تھا حکومت کو سرکاری طور

ممبئی۔21جون ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فرنویس نے کہا کہ ممبئی پولیس کمشنر راکیش ماریا کو آئی پی ایل کے سابق سربراہ للت مودی سے لندن میں ملاقات کے بارے میں دیئے گئے بیان پر معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ راکیش ماریا سے ہم نے کہا ہے کہ میڈیا سے انہوں نے جو کچھ کہا تھا حکومت کو سرکاری طور پر اس کی اطلاع دیں ۔ ان کیطرف سے فراہم کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر ہی ہم کسی کارروائیا کے بارے میں فیصلہ کریں گے ‘‘ ۔ استفسار پر کہ آیا معلومات کی فراہمی کیلئے ماریا کو کوئی مخصوص وقت دیا گیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ انہیں ( ماریا کو) ایک دن کا وقت دیا گیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا ماریا کے خلاف کسی تحقیقات کے آغاز کی صورت میں انہیں عارضی طور پر سبکدوشی کیلئے کہا جائے گا ۔ فرنویس نے جواب دیا کہ ’’ پہلے معلومات ہمیں موصول ہونے دیجئے ‘‘ ۔ واضح رہے کہ للت مودی تنازعہ نے گذشتہ روز ایک نیا موڑ اختیار کرلیا تھا جب راکیش ماریا نے یہ اعتراف کیا کہ مودی کے وکیل کے اصرار پر انہوں نے 2014 کے دوران لندن میں ان ( للت مودی) سے ملاقات کی تھی ۔ بعض ٹیلی ویژن نیوز چینلس کی طرف سے راکیش ماریا اور للت مودی کی تصاویر جاری کئے جانے کے بعد انہوں ( راکیش ماریا) نے یہ بیان دیا تھا ۔ مودی نے 15تا 20منٹ کی ملاقات کے دوران لندن میں انڈر ورلڈ سے اپنی جان کو لاحق خطرات سے نمٹنے ممبئی پولیس سے مدد طلب کی تھی ۔ تاہم مہاراشٹرا کے مملکتی وزیر داخلہ رنجیت پاٹل نے کہا کہ للت مودی کی بارہا درخواست راکیش ماریا کی ان سے ملاقات کا بہانہ نہیں ہوسکی اور اس بات کا پتہ چلانے کیلئے تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا وہ کیا بات تھی جس کیلئے راکیش ماریا کو للت مودی سے ملاقات کیلئے مجبور ہونا پڑا تھا ۔للت مودی کے تنازعہ میں یہ تازہ موڑ ہے ۔قبل ازیں مرکزی وزیر سشما سوراج اور چیف منسٹر راجستھان وجئے راجے سندھیا اس میں ملوث تھے لیکن اب ایک اعلیٰ سطحی پولیس عہدیدار کے بھی ملوث ہونے کے اندیشہ بڑھ گئے ہ

TOPPOPULARRECENT