Monday , January 22 2018
Home / کھیل کی خبریں / لندن اولمپکس مغموم یاد : مہیش بھوپتی ذمہ دار ۔ لئینڈر پئیس کا ادعا

لندن اولمپکس مغموم یاد : مہیش بھوپتی ذمہ دار ۔ لئینڈر پئیس کا ادعا

نئی دہلی 27 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) باوقار پدما بھوشن ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد مسرور سینئر ٹینس اسٹار لینڈر پئیس ابھی تک بھی 2012 اولمپکس سے قبل سلیکشن مسئلہ پر ہوئے تنازعہ کو فراموش نہیں کرپائے ہیں اور انہوں نے کہا کہ اس کیلئے وہ مہیش بھوپتی کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جنہوں نے ان گیمس کو ان کیلئے افسوس کی وجہ بنادیا ہے ۔ لندن اولمپک گیمس سے

نئی دہلی 27 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) باوقار پدما بھوشن ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد مسرور سینئر ٹینس اسٹار لینڈر پئیس ابھی تک بھی 2012 اولمپکس سے قبل سلیکشن مسئلہ پر ہوئے تنازعہ کو فراموش نہیں کرپائے ہیں اور انہوں نے کہا کہ اس کیلئے وہ مہیش بھوپتی کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جنہوں نے ان گیمس کو ان کیلئے افسوس کی وجہ بنادیا ہے ۔ لندن اولمپک گیمس سے قبل کھلاڑیوں کے سلیکشن پر مسئلہ پیدا ہوگیا تھا کیونکہ رو ہن بوپنا نے ان گیمس کیلئے مہیش بھوپتی کے ساتھ ہی کھیلنے پر اصرار کیا تھا اور انہوں نے لئینڈر پئیس کے ساتھ جوڑی بنانے سے انکار کردیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ لندن اولمپکس ان کیلئے افسوس کی وجہ رہے ہیں اور اس کے ذمہ دار مہیش بھوپتی رہے ہیں۔ نہ صرف انہوں نے مجھے میڈل حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا بلکہ خود ہندوستان بھی میڈل حاصل کرنے کے موقع سے محروم رہ گیا ۔ یہ بات تاریخ میں درج رہے گی ۔

اس سوال پر کہ آیا وہ مستقبل میں ایک بار پھر مہیش بھوپتی کے ساتھ جوڑی بناسکتے ہیں لئینڈر پئیس نے کہا کہ اب کبھی ایسا نہیں ہوسکتا ۔ لندن اولمپکس سے قبل روہن بوپنا اور مہیش بھوپتی نے پئیس کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا تھا اور انہوں نے آپس میں جوڑی بنانے پر اصرار کیا تھا ۔ آل انڈیا ٹینس فیڈریشن نے جہاں مہیش بھوپتی اور بوپنا کی جوڑی بنائی تھی وہیں مکسڈ ڈبلز کیلئے پئیس کے ساتھ ثانیہ مرزا کو موقع دیا گیا تھا ۔ آل انڈیا ٹینس اسوسی ایشن نے مینس ڈبلز کیلئے پئیس کے ساتھ وشنو وردھن کو موقع دیا تھا ۔ پئیس نے 1996 میں اٹلانٹا اولمپکس میں مینس سنگلز میں برانز میڈل حاصل کیا تھا ۔

پئیس نے کہا کہ وہ ماضی کے تجربوں سے حوصلہ حاصل کرتے ہیں اور 2016 کے اولمپکس میں جو ریو میں ہونے والے ہیں بہتر مظاہرہ کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا واحد مقصد یہی ہے کہ ریو میں ہونے والے گیمس میں میڈل حاصل کریں جو ان کے کیرئیر کے ساتویں گیمس ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ان گیمس کیلئے صرف دو سال کا وقت رہ گیا ہے اور یہ مقصد زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ وہ مینس ڈبلز میں ٹاپ 10 میں شامل ہیں اور سب سے آخری گرانڈ سلام انہوں نے صرف چھ مہینے قبل حاصل کیا ہے ۔ ایسے میں ان کیلئے کھیلنے کی خواہش کو برقراررکھنا زیادہ مشکل نہیں ہے وہ طویل مدتی مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے خود کو پرجوش رکھ سکتے ہیں۔ پئیس نے کہا کہ اگر آل انڈیا ٹینس اسوسی ایشن چاہے تو وہ سربیا کے خلاف ڈیوس کپ میں کھیلنے کیلئے تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ قوم کیلئے کھیلنے ہمیشہ تیار رہتے ہیں ۔ اگر انہیں موقع دیا جاتا ہے تو وہ اس سے انکار نہیں کرینگے ۔ وہ بہتر مظاہرہ کرنے کی کوشش کرینگے ۔

TOPPOPULARRECENT