Monday , May 28 2018
Home / Top Stories / لندن میں ہندوستانی پرچم کی توہین ناقابل برداشت

لندن میں ہندوستانی پرچم کی توہین ناقابل برداشت

لندن ۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے آج یہاں پارلیمنٹ اسکوائر پر وزیراعظم ہند نریندر مودی کے دورہ کے دوران ترنگے پرچم کی بیحرمتی کے واقعہ کا سختی سے نوٹ لیا ہے اور جو بھی اس گھناؤنی حرکت کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء وزارت امورخارجہ نے بتایا کہ اب اس معاملہ کو برطانوی حکومت سے رجوع کیا گیا ہے جس کیلئے اعلیٰ سطح پر اظہارتاسف کیا گیا ہے۔ وزارت کے ترجمان رویش کمار نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے ہم بیحد برہم ہیں کیونکہ اس معاملہ کو تن آسانی سے نہیں لیا جانا چاہئے۔ بات اگر قومی پرچم کی ہو تو کسی سمجھوتے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لہٰذا اب اس معاملہ کو برطانوی حکومت سے رجوع کیا گیا ہے کیونکہ پارلیمنٹ اسکوائر پر جس طرح قومی پرچم کی بے حرمتی ہوئی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف کارروائی ہونی ہی چاہئے۔ کارروائی بھی معمولی نوعیت کی نہیں بلکہ قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ بات یہاں پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کے علاوہ ان لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے خاطیوں کو ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کیلئے اکسایا۔ یاد رہیکہ اس وقت ہندوستان میں عصمت ریزی، قتل اور زدوکوب کرنے کے واقعات میں جس طرح اضافہ ہوا ہے اس نے نہ صرف ہندوستانی عوام کو بلکہ دنیا کے تمام ممالک میں ہندوستان کی شبیہہ خراب کردی ہے اور کئی ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ نریندر مودی بھی جس وقت لندن پہنچے تو ان کا ’’استقبال‘‘ احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ کیا گیا جہاں لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اور بیانرس تھام رکھے تھے اور ’’مودی واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ تاہم پارلیمنٹ اسکوائر پر کیا جانے والا احتجاجی مظاہرہ اس وقت تشدد اختیار کر گیا جب کچھ احتجاجیوں نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے ترنگے پرچم کو پھاڑ ڈالا اور اسے ان 53 ممالک کے پرچموں کے گروپ سے نیچے گرا دیا جنہیں کامن ویلتھ ہیڈس آف گورنمنٹ میٹنگ (CHOGM) کے موقع پر علامتی طور پر کانفرنس کے مقام پر کھمبوں پر لہرایا گیا تھا جس میں ہندوستان کا ترنگا بھی موجود تھا۔ اس طرح کسی ملک کے پرچم کی بیحرمتی کرنا اس ملک کی بیحرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ جن افراد نے یہ حرکت کی ہے ان کے بارے میں یہ کہا جارہا ہیکہ وہ خالصتان۔ حامی احتجاجی تھے جنہیں کشمیری علحدگی پسند گروپس کے ساتھ نام نہاد ’’مائناریٹیز اگنیسٹ مودی‘‘ کے بیانر تلے احتجاج کے مقام پر لایا گیا تھا جس کی قیادت پاکستانی شہری پیرلارڈ احمد کررہے تھے۔ ان افرادکی اس حرکت کو کیمرے نے بھی قید کرلیا ہے جس کی فوٹیج دیکھنے کے بعد ہی یہ اندازہ ہوا کہ وہ خالصتان ۔ حامی عناصر تھے۔ اب حکومت برطانیہ پر احمد کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے شدید دباؤ ہے کیونکہ احمد ہی وہ شخص بتایا گیا ہے جو برطانیہ کی سرزمین پر اکثر و بیشتر ہندوستان کے خلاف پرتشدد واقعات میں ملوث رہا ہے یا پھر اس نے دوسروں کو تشدد برپا کرنے پر اکسایا۔ اسی دوران برطانیہ کی فارین اینڈ کامن ویلتھ آفس (FCO) کے ترجمان نے بتایا کہ برطانوی حکومت اس واقعہ کے بعد ہندوستانی ہائی کمیشن کے ساتھ مسلسل ربط میں ہے۔ عوام کو یوں تو احتجاج منظم کرنے کا جمہوری حق حاصل ہے تاہم پارلیمنٹ اسکوائر پر جس طرح ایک اقلیتی گروپ نے ہندوستانی پرچم کی توہین کی ہے اس پر ہمیں سخت مایوسی ہوئی۔ فی الحال ہائی کمشنر یشووردھن کمار سنہا کو ہم نے اس واقعہ کی پوری معلومات فراہم کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT