Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / لندن کی 24 منزلہ عمارت میں مہیب آتشزدگی،12ہلاک، 50 زخمی

لندن کی 24 منزلہ عمارت میں مہیب آتشزدگی،12ہلاک، 50 زخمی

 

لندن ۔ 14 ۔ جون ( سیاست ڈاٹ کام) مغربی لندن کی ایک 24 منزلہ بلند عمارت میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جن میں ہلاک ہونے والوں کی کثیر تعداد بتائی گئی تھی تاہم صرف 12ہلاکتوں کی توثیق ہوئی ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 50 بتائی گئی ہے۔ لندن کے فائر بریگیڈ چیف ڈین کاٹن نے دریں اثنا اخباری رپورٹرس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرین فیل ٹاور میں آتشزدگی کی سب سے پہلے اطلاع مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح 6.15 بجے دی گئی ۔ مذکورہ ٹاور لیاٹیمر روڈ پر واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ آتشزدگی میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن فی الوقت صحیح تعداد نہیں بتائی جاسکتی کیونکہ عمارت کی وسعت کو دیکھتے ہوئے ابھی ہلاکتوںکی تعداد کی کوشش نہیں کی جاسکتی ۔ آگ کی شت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زائد از 200 فائر فائٹرس اس وقت آگ بجھانے میں مصروف ہیں ۔ حالانکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے متعدد لوگوں کو عمارت کے اندر ہی پھنسا ہوا دیکھا لیکن ایمرجنسی خدمات نے اب تک کوئی تفصیلات نہیں بتائی ۔ دوسری طرف لندن ایمبولینس کے مطابق 30 زخمی افراد کو ہاسپٹل لایا گیا ہے جہاں ان کا علاج چل رہا ہے ۔ مسٹر ڈین کاٹن نے کہا کہ ان کی 29 سالہ سرویس کے دوران انہوں نے ایسی مہیب اور شدید آتشزدگی کبھی نہیں دیکھی ۔

سڑکپر کھڑے ہوئے کچھ لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے لوگوں کی چیخوں کی آوازیں سنیں جو مدد کیلئے پکار رہے تھے ۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ان کے بچوں کو بچالیا جائے فائر سرویس سے گرین فیل ٹاور کے آس پاس کی عمارتوں ے بھی مکینوں کا تخلیہ کروالیا ہے تاکہ آگ کے اثرات ان عمارتوں تک نہ پہنچیں۔ میٹرو پولیٹن پولیس کے کمانڈ و اسٹوارٹ کنڈی نے عوام سے درخواست کی کہ وہ اس علاقہ سے دور رہیں۔ آتشزدگی کے بعد اس علاقہ کی ناکہ بندی کردی گئی اور روڈ نمبر 40A پر دونوں طرف ٹریفک کا بہاؤ روک دیا گیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ عمارت کے آس پاس کا علاقے میں زیادہ تر مسلمانوں کی آبادی ہے اور حادثہ کے وقت وہ لوگ سحری کرنے کے بعد جاگ رہے تھے کیونکہ رمضان المبارک کا پتہ چلر ہا ہے اور روزہ رکھنے وا لے صبح میں جلد اٹھ کر کھانے پینے سے فارغ ہوجاتے ہیں تاکہ دن بھر روزہ رکھا جاسکے ۔

ان لوگوں نے بھی مددکیلئے چیختے چلاتے لوگوں کی آوزیں سنیں لیکن آگ اتنی مہیب تھی کہ وہ لوگ چاہتے ہوئے بھی کوئی مدد نہیں کرسکتے تھے ۔ میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کا واقعہ غیر معمولی نوعیت کا ہے اور اس کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے ابھی مزید وقت درکار ہے ۔ اس موقع پر حادثہ میں بچ جانے والے ایک شحص نے بتایا کہ وہ خوش قسمت ہے کہ اتنے بڑے حادثہ میں وہ زندہ بچ گیا لیکن ایسے بہت لوگ ہیں جو آگ میں ہی پھنس گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آگ عمارت کی دوسری منزل سے شروعہوئی جہاں 120 فلیٹس ہیں اور اس کے بعد اس نے پوری عمارت کواپنی لپیٹ م یں لے لیا ۔ زونامی ایک بچ جانے والی خاتون نے بتایا کہ اس کا دروازہ کسی نے زور سے کھٹکھٹایا ۔ اس کا فلیٹ چوتھی منزل پر ہے۔ دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانے کے بعد اس کی آنکھ کھل گئی اور اس نے ہر طرف دھواں دیکھا ۔ دھواں جس تیزی سے پوری عمارت میں پھیل رہا تھا وہ ایک خوفناک منظر تھا۔ لندن کے میئر صادق خان نے بھی اب تک ہلاکتوںکی تعداد کی توثیق نہیں کی ہے ۔ البتہ وہ بچاؤاور راحت کاری عملہ سے مسلسل ربط میں ہیں۔ انہوں نے برہمی سے کہا کہ ایسی بلند عمارتوں میں تحفظ کے کیا انتظامات ہیں اس کیلئے بلڈرس کو جواب دینا ہوگا۔

لندن میں مسلمانوں نے کئی افراد کی جان بچائی
لندن۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی دارالحکومت لندن میں شعلہ پوش ہونے کے بعد خاکستر ٹاور میں اور اس کے اطراف و اکناف رہنے والے مسلمان مرد و خواتین اور بچے اس المیہ میں اپنی جان پر کھیل کر کئی افراد کی جان بچاتے ہوئے ہیرو کو حیثیت سے ابھرے ہیں۔ مقامی مسلمان چونکہ وقت سحر سے قبل بیدار تھے کہ لندن میں مقامی وقت کے مطابق تقریباً 2 بجے یہ مہیب آتشزدگی کا المیہ پیش آیا جس کے ساتھ ہی انہوں نے گرینفل ٹاور میں محو خواب افراد کے اپارٹمنٹس پر دروازے کھٹکھٹاتے ہوئے انہیں بیدار کیا اور تیزی سے پھیلنے والی آگ سے بچاتے ہوئے محفوظ مقامات کو منتقلی میں مدد کی۔ ایک مقامی صومالی شخص نے کہا کہ سب سے پہلے اس نے دھواں محسوس کیا اور باہر نکلنے پر پتہ چلا کہ ساری راہداری دھویں سے بھر چکی ہے۔ مقامی مسلمانوں کو سب سے پہلے اس آگ کا پتہ چلا جو سحر کی تیاری میں مصروف تھے۔ انہوں نے خود کو بچانے کے بعد تیزی کے ساتھ دوسروں کو بچانے کی کوشش کا آغاز کردیا۔ مقامی خواتین صفیہ اور رشیدہ نے کہا کہ اس علاقہ میں مختلف اقوام، ممالک اور مذاہب کے لوگ مقیم ہیں جو ایک دوسرے سے امن و محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔ نادیہ یوسف نے کہا کہ وہ سحر کی تیاری میں مصروف تھیں کہ آگ کا پتہ چلا اور انہوں نے کئی مرد و خواتین اور بچوں کو بچانے میں ساتھیوں کی مدد کی۔

 

شعلہ پوش ٹاور سے ماں نے کمسن بیٹے کو پھینک دیا
ایک بہادر شخص نے پکڑ لیا، لندن میں حیرت انگیز واقعہ
لندن۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک جرأت مند اور حاضر دماغ شخص نے ایک پانچ سالہ لڑکا کو پوری ہمت اور پھرتی کے ساتھ پکڑ لیا جس (بچہ) کو لندن میں ایک 24 منزلہ شعلہ پوش عمارت کی 9 ویں یا 10 ویں منزل سے بے بس و مایوس ماں نے اس کی جان بچانے کیلئے پھینک دیا۔ تھا۔ لندن میں لیٹیمر روڈ پر لانکاسٹر ویسٹ ایسٹ کے گرینفل ٹاور میں مقامی وقت کے مطابق رات 01:16 بجے بھیانک آگ لگ تھی۔ اس وقت اس عمارت کے 120 فلیٹس میں 600 افراد مقیم تھے۔ روزنامہ ’’ٹیلیگراف‘‘ نے مقامی خاتون سمیرا لام ران کے حوالے سے کہا کہ اس نے دیکھا کہ ایک خاتون 9 ویں یا 10 ویں منزل کی کھڑکی سے اپنے ایک پانچ سالہ بچے کو نیچے پھینکنے کی کوشش کررہی ہے اور اس انتظار میں تھی کہ پہلے لوگ نیچے جمع ہوجائیں جس کے ساتھ ہی وہاں کئی افراد جمع ہوگئے اور ان میں ایک وہ بہادر شخص بھی تھا جس نے تیزی سے آگے بڑھ کر لڑکے کو پکڑ لیا۔ اس عمارت میں مہیب آتشزدگی کے سبب کم سے کم 6 افراد فوت اور دیگر 50 زخمی ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT