Sunday , May 27 2018
Home / ہندوستان / ’لوجہاد‘ :سپریم کورٹ نے ہادیہ کو والدین کی تحویل سے آزاد کردیا

’لوجہاد‘ :سپریم کورٹ نے ہادیہ کو والدین کی تحویل سے آزاد کردیا

تعلیم جاری رکھنے کی ہدایت ، شوہر کے ساتھ رہنے کی درخواست قبول کرنے سے انکار

نئی دہلی ۔27 نومبر ۔( سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مبینہ طورپر ’’لوجہاد ‘‘ کا شکار لڑکی کو اُس کے والدین کی تحویل سے آزاد کردیا اور اُسے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے کالج روانہ کردیا ۔ حالانکہ کیرالا کی اس خاتون نے عدالت سے درخواست کی کہ اُسے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت میں آج طویل سماعت کے بعد ہادیہ کی اس درخواست کو قبول نہیں کیا گیا کہ اُسے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دی جائے ۔ اُس نے عدالت سے کہاتھا کہ وہ آزادی چاہتی ہے تاکہ اُسے اسلامی عقیدہ کے مطابق زندگی گذارنے کا موقع مل سکے ۔ سپریم کورٹ نے 25 سالہ ہادیہ کے والد کی اس درخواست کو قبول نہیں کیا کہ بند کمرے میں بات چیت کی جائے ، اس کے برعکس عدالت نے ہادیہ سے تقریباً نصف گھنٹہ کمرے عدالت میں تبادلۂ خیال کیا۔ کیرالا پولیس کو یہ ہدایت دی گئی کہ ہادیہ کا تحفظ یقینی بنائے اور جلد از جلد اُسے سیلم ، ٹاملناڈو روانہ کیا جائے تاکہ وہ ہومیوپیتھی میں تعلیم کاسلسلہ جاری رکھ سکے ۔ ہادیہ تقریباً چھ ماہ سے اُس کے والدین کی تحویل میں تھی۔ کیرالا ہائیکورٹ نے 29 مئی کو شفین جہاں کے ساتھ اُس کا نکاح کالعدم کردیا تھا ۔ ہادیہ پیدائشی طورپر ہندو ہے اور اُس نے شادی سے کئی ماہ قبل مذہب اسلام قبول کیا تھا ۔ عدالت نے کیرالا ہائیکورٹ کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے شفین جہاں کی درخواست قبول کی اور آئندہ سال جنوری کے تیسرے ہفتہ میں سماعت مقرر کی ہے ۔ عدالت نے ہادیہ کی یہ درخواست قبول کی کہ اُسے پہلے اپنے دوست کے گھر جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ گزشتہ گیارہ ماہ سے ذہنی ہراسانی کا شکار ہورہی تھی ۔ اس کے بعد وہ سیلم روانہ ہوجائے گی ۔ عدالت نے کالج ڈین کو ہادیہ کا مقامی سرپرست مقرر کیا اور اُسے یہ آزادی دی کہ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہونے پر وہ رجوع ہوسکتا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کالج میں ہادیہ کے ساتھ دیگر طلبہ کی طرح مساوی سلوک روا رکھا جائے ۔ ہادیہ سے جب سیلم میں کسی قریبی رشتہ دار کا نام پوچھا گیا جو اُس کا سرپرست بن سکے تو اُس نے کہاکہ اُسے صرف اپنے شوہر کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT