Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / لوک ایوکت کرناٹک بھاسکر راؤ بالآخر مستعفی

لوک ایوکت کرناٹک بھاسکر راؤ بالآخر مستعفی

فرزند پر ڈرا دھمکاکر بھاری رقومات کی وصولی کا الزام

بنگلورو ۔ 8 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام): کرناٹک لوک ایوکت مسٹر وائی بھاسکر راؤ نے اپنے فرزند کے خلاف سنگین الزامات کے پیش نظر انہیں عہدہ سے ہٹائے جانے سے قبل ہی آج استعفیٰ دیا ہے جب کہ ان کے فرزند پر الزام ہے کہ والد کے اثر و رسوخ کا بیجا استعمال کرتے ہوئے سرکاری عہدیداروں سے زبردستی رقومات وصول کرتے تھے۔ بھاسکر راؤ نے استعفیٰ کے مطالبہ میں شدت کے باعث کل اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا تھا جسے آج گورنر وجو بھائی آر والا نے منظور کرلیا ۔ اس طرح کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال ختم ہوگئی ۔ راج بھون کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ گورنر صاحب نے لوک ایوکت کرناٹک کی حیثیت سے ڈاکٹر جسٹس وائی بھاسکر راؤ کا استعفیٰ فوری استقدامی اثر کے ساتھ قبول کرلیا ہے ۔ مذکورہ کیس کے سلسلہ میں فرزند کی گرفتاری کے بعد بھاسکر راؤ ماہ جولائی سے طویل رخصت پر تھے ۔ قبل ازیں حکمران کانگریس کی تائید سے اپوزیشن بی جے پی ، جنتادل سیکولر نے اسمبلی میں ایک تحریک پیش کی تھی جسے اسپیکر نے چیف جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کردیا تھا

تاکہ لوک ایوکت کو عہدہ سے ہٹادینے کے لیے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جاسکے ۔ لیکن عہدہ سے برطرفی سے قبل ہی جسٹس بھاسکر راؤ نے کل استعفیٰ دیدیا ۔ واضح رہے کہ کرناٹک اسمبلی میں لوک ایوکت ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے جسٹس بھاسکر راؤ کو ہٹادینے کے لیے راہ ہموار کی گئی تھی ۔ جس کے پیش نظر انہیں عہدہ سے ہٹا دیا جانا یقینی نظر آرہا تھا ۔ لوک ایوکت کا تقرر ججس ( انکوائری ) ایکٹ 1968 کے تحت 2 ججس اور ایک ماہر قانون ( جیوریسٹ ) پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی کرتی ہے ۔ زر تاوان کی وصولی کا اسکینڈل اس وقت منظر عام پر آیا جب لوک ایوکت کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سونیا نارنگ نے ایک مکتوب رجسٹرار لوک ایوکت روانہ کیا اور مطلع کیا کہ ایک شخص نے یہ شکایت کی ہے کہ لوک ایوکت آفس سے کسی نے ٹیلی فون کر کے دھاوے سے بچنے کے لیے ایک کروڑ روپئے کا مطالبہ کیا ہے ۔ سی آئی ڈی کی خصوصی ٹیم سے 11 افراد بشمول اشوین راؤ ( فرزند بھاسکر راؤ ) کو گرفتار کر کے 5 ملزمین کے خلاف کیس درج کیا ہے ۔

دریں اثنا ایک اور حیرت انگیز تبدیلی میں کانگریس نے نائب لوک ایوکت سبھاش اڈی کو بھی ہٹادینے کے لیے ایک تحریک پیش کی ہے لیکن بی جے پی اور جنتادل سیکولر نے تائید سے انکار کردیا ہے ۔ حکمران جماعت کے ارکان نے سبھاش کے خلاف اثر و رسوخ کا بیجا استعمال اور عدم کارکردگی کا الزام عائد کیا ہے ۔ تاہم اپوزیشن نے یہ استدلال پیش کیا کہ سبھاش کے خلاف الزامات واضح نہیں ہیں اور ان کے خلاف کارروائی دراصل لوک ایوکت ادارہ کو بند کردینے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے ۔ سابق نائب لوک ایوکت مسٹر ایس بی ماجیگر نے الزام عائد کیا تھا کہ سبھاش ادی نے ہبلی کے ایک میڈیکل آفیسر کے خلاف تحقیقات کے بغیر کیس بند کردیا ہے ۔ جس کے بعد کانگریس لیڈروں نے سبھاش سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا اور یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ میڈیکل آفیسر اپوزیشن بی جے پی لیڈر جگدیش شیٹر کے رشتہ دار ہیں اور انہیں پیشرو بی جے پی کے دور حکومت میں تقرر کیا گیا تھا تاہم اسپیکر اسمبلی نے کہا ہے کہ نائب لوک ایوکت کے خلاف جانبداری اور اختیارات سے تجاوز کرنے کا ٹھوس ثبوت نہیں ہے لہذا وہ کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT