Thursday , December 13 2018

لوک سبھا اجلاس میں ’’کارروائی کے فقدان‘‘ کیخلاف کانگریس کا احتجاج

نئی دہلی۔ 4 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج ’’کارروائی کے فقدان‘‘ کی شکایت کرتے ہوئے لوک سبھا کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور کہا کہ کئی بڑے مسائل پر مباحث کی خواہش کی گئی تھی، لیکن حکومت کی جانب سے اُٹھائے ہوئے مسائل کو ترجیح دی گئی اور کانگریس کے اٹھائے ہوئے مسائل نظرانداز کردیئے گئے۔ کانگریس ارکان بشمول سینئر قائد ملکارجن کھرگے

نئی دہلی۔ 4 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج ’’کارروائی کے فقدان‘‘ کی شکایت کرتے ہوئے لوک سبھا کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور کہا کہ کئی بڑے مسائل پر مباحث کی خواہش کی گئی تھی، لیکن حکومت کی جانب سے اُٹھائے ہوئے مسائل کو ترجیح دی گئی اور کانگریس کے اٹھائے ہوئے مسائل نظرانداز کردیئے گئے۔ کانگریس ارکان بشمول سینئر قائد ملکارجن کھرگے نے مطالبہ کیا، جبکہ اسپیکر سمترا مہاجن نے وزیر مملکت برائے فینانس نرملا سیتا رامن کو سیبی کا ترمیمی مسودۂ قانون منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت دی اور تحریک توجہ دہانی کو تبدیل کردیا، جو ملک کے مختلف علاقوں میں فیلپا (اِنسفالائٹیز) پھیلنے پر خصوصی مباحث کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ملک ارجن کھرگے نے واضح طور پر کارروائیوں کی ضمنی فہرست میں شامل سیبی بل کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ایوان کے پیش نظر کونسی کارروائی ہے، ایوان نہیں جانتا کہ جاریہ ہفتہ کونسی کارروائیاں ہونا چاہئے۔ ہم موضوع ہی نہیں جانتا تو اس پر بحث کیسے کرسکتے ہیں۔ اس سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ بی جے پی رکن یوگی آدتیہ ناتھ فیلپا پر تحریک توجہ دہانی پر اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ کھرگے نے کہا کہ خصوصی مباحث کے لئے مزید وقت مختص کیا جارہا ہے، جبکہ عام بجٹ پر مباحث صرف دو دن منعقد کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر کابینی وزراء بھی ایوان میں موجود نہیں ہوتے، اس کے باوجود کانگریس تعاون کررہی ہے۔ ایوان کا اجلاس کورم کی کمی کی وجہ سے بار بار ملتوی ہوتا ہے۔ صرف حکومت کی کارروائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب ملک ارجن کھرگے خطاب کررہے تھے تو کانگریسی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے اور نعرہ بازی کررہے تھے ’’بزنس لاؤ، ایوان چلاؤ‘‘۔ شوروغل کے دوران اسپیکر نے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی مسئلہ ہو تو مَیں جواب دے سکتی ہوں۔ خشک سالی کا مسئلہ آپ کو پیش کیا گیا تھا اور اس پر مباحث بھی ہوئے تھے۔ توجہ دہانی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے۔ اس لئے اس پر بحث کی گئی تھی۔ جب وزیر صحت ہرش وردھن نے تحریک توجہ دہانی کا جواب دینا شروع کیا تو اسپیکر نے ان سے کہا کہ اپنا بیان میز پر رکھ دیں کیونکہ کانگریس ارکان مسلسل نعرے لگا رہے تھے۔ آدتیہ ناتھ نے مطالبہ کیا کہ مشرقی یوپی اور ملک کے دیگر علاقوں میں فیلپا بیماری پھیلنے کے بارے میں مباحث کروائے جائیں۔ قاعدہ 193 کے تحت مختصر مباحث ہونے چاہئیں۔ اس پر اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان کا نقطۂ نظر جاننا چاہا اور مباحث کو خصوصی مباحثہ میں تبدیل کردیا۔ اس پر کھرگے نے کہا کہ ایوان کی مقررہ کارروائی کیا ہے۔ حکومت کو اس کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ اس کے بعد تمام کانگریس ارکان نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ وقفۂ صفر کے دوران کئی کانگریسی ارکان شہ نشین کے قریب پہنچ گئے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ جاریہ ہفتہ ایوان میں کونسی کارروائیاں کی جانے والی ہیں۔ قبل ازیں ایوان کے اجلاس میں یوپی ایس سی امتحان تنازعہ پر شوروغل ہوچکا ہے اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں کے اجلاس بار بار ملتوی کئے جاتے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT