Saturday , December 15 2018

لوک سبھا انتخابات سے قبل مودی حکومت کو شدید دھکہ لگنے کا امکان

’اوپیک‘ کا خام تیل کی پیداوار گھٹانے کا فیصلہ ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ممکن
نئی دہلی / ویانا ۔ 8 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ اب مزید سنگین ہوجائے گا ۔ جہاں ایک طرف 5 ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول نے بی جے پی کو تشویش میں ڈال دیا ہے وہیں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں کے بعد بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت کے لیے 2019 کی راہ اور مشکل ہوتی نظر آرہی ہے ۔ تیل برآمد کرنے والے 14 بڑے ممالک کے گروپ اور 10 دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک نے خام تیل کی گرتی قیمتوں پر قابو پانے کے مقصد سے تیل پیداوار میں 1.2 ملین بیرل یومیہ کی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے ۔ 2019 کے عام انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اشارے حکومت کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہیں ۔ ایسے میں حکومت کے سامنے اس بحران سے نپٹنے کا چیلنج ہوگا ۔ دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے کا نصف حصہ اوپیک اور اس کے رکن ممالک سے ہی ہوتا ہے ۔ اوپیک کی ہوئی اہم میٹنگ میں اتفاق رائے سے تیل پیداوار زیادہ ہونے کی وجہ سے پچھلے دو ماہ میں 30 فیصد سے زیادہ قیمتیں کم ہوئی ہیں ۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ کچھ وقت میں آئی بھاری کمی کو دیکھتے ہوئے تیل برآمد کرنے والی ممالک کی اہم تنظیم ’ اوپیک ‘ نے جنوری سے پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا ہے ۔ اوپیک نے جمعہ کو ختم دو روزہ منسٹریل میٹنگ کیب عد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2019 سے خام تیل کی یومیہ پیداوار 12 ملین بیرل کٹوتی کی جائے گی ۔ شروع میں یہ فیصلہ چھ ماہ کے لیے لاگو ہوں گے اور اگلے سال اپریل میں ہونے والی میٹنگ میں اس فیصلہ کا جائزہ لیا جائے گا ۔ مذکورہ فیصلہ سے ہندوستان میں گذشتہ دو ماہ سے پٹرول ڈیزل ، رسوئی گیس اور ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمتوں میں صارفین کو ملنے والی راحت بھی رک سکتی ہے اور ایک بار پھر ان پٹرولیم مصنوعات کے دام بڑھ سکتے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ کے موجودہ منظر نامہ پر تبادلہ خیال اور سال 2019 میں عالمی سطح پر خام تیل کی مانگ اور سپلائی میں بڑھتے فرق کو دیکھتے ہوئے مجموعی پیداوار میں جنوری 2019 سے 12 ملین بیرل یومیہ کی بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ شروع میں یہ چھ ماہ کے لیے ہوگا ۔۔

TOPPOPULARRECENT