Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو بدترین شکست، این ڈی اے کو 220 نشستیں

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو بدترین شکست، این ڈی اے کو 220 نشستیں

نئی دہلی /24 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کو 220 نشستیں ملیں گی۔ اوپنین پول میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی ہی اقتدار کے حصول کے لئے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ سی این این، آئی بی این اور سی ایس ڈی ایس کی جانب سے کرائے گئے سروے میں بتایا گیا ہے

نئی دہلی /24 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کو 220 نشستیں ملیں گی۔ اوپنین پول میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی ہی اقتدار کے حصول کے لئے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ سی این این، آئی بی این اور سی ایس ڈی ایس کی جانب سے کرائے گئے سروے میں بتایا گیا ہے

کہ کانگریس کو بدترین شکست ہوگی، البتہ علاقائی پارٹیاں جیسے ترنمول کانگریس اور انا ڈی ایم کے بہتر مظاہرہ کریں گے اور عام آدمی پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ اوپنین پول میں بتایا گیا ہے کہ لوک سبھا کی جملہ 543 نشستوں میں سے 192 تا 210 نشستیں بی جے پی تنہا حاصل کرے گی، جب کہ کانگریس کے حق میں صرف 92 تا 108 نشستیں آئیں گی۔ سروے میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کو 211 تا 231 نشستین ملنے کی پیش قیاسی کی گئی ہے، جب کہ کانگریس زیر قیادت یو پی اے کو صرف 107 تا 127 نشستیں ملیں گی۔ ممتا بنرجی کی زیر قیادت ترنمول کانگریس کو 20 تا 28 لوک سبھا نشستیں حاصل ہوں گی۔ سروے میں عام آدمی پارٹی کو 6 تا 12 نشستیں ملنے کی قیاس آرائی کی گئی ہے۔

سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا کمزور مظاہرہ ہوگا۔ سروے کے مطابق سماج وادی پارٹی کو صرف 8 تا 14 نشستیں اور بی ایس پی کو 10 تا 16 نشستیں حاصل ہو رہی ہیں۔ سروے نے رائے دہی کے فیصد کو بھی ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی کے حق میں 34 فیصد ووٹ آئیں گے اور اسے 2009ء کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے 15.2 فید کا فائدہ ہو رہا ہے۔ کانگریس کو صرف 27 فیصد ووٹ مل رہے ہیں، اسے 2009ء کے بعد سے 1.6 فیصد ووٹوں کا نقصان ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی وزارت عظمٰی کے عہدہ کے لئے سب سے اعلی اور اولین ترین پسند ہیں، جب کہ راہول گاندھی بہت پیچھے ہیں۔ 34 فیصد رائے دہندوں نے نریندر مودی کے وزیر اعظم ہونے کو ترجیح دی ہے، جب کہ راہول گاندھی کو صرف 15 فیصد رائے دہندوں کی تائید حاصل ہے۔ سب سے افسوسناک سونیا گاندھی کے لئے ہے، جنھیں وزیر اعظم بنانے کی شدید مخالفت کی گئی ہے اور ان کے حق میں صرف 5 فیصد عوام کی رائے حاصل ہوئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کجریوال کو وزارت عظمی کے عہدہ کے لئے صرف 3 فیصد عوام نے تائید کی ہے۔ سروے کے مطابق انتخابات میں نریندر مودی، راہول گاندھی کے درمیان دو بہ دو راستہ مقابلہ ہوگا۔ عوام کی بڑی تعداد یعنی 42 فیصد نے نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے اور 25 فیصد نے راہول گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT