Saturday , December 15 2018

لوک سبھا انتخابات ‘ آج پہلے مرحلہ کی رائے دہی

نئی دہلی ۔ /16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں جاری زبردست انتخابی گہما گہمی اور نریندر مودی و راہول گاندھی کے مابین عملاً صدارتی طرز کے مقابلہ کا باقاعدہ آغاز ہونے جارہا ہے ۔ چنانچہ نو مراحل کے پہلے مرحلہ میں کل دو ریاستوں کے چھ حلقوں میں رائے دہی ہوگی ۔ اس دوڑ میں کئی علاقائی جماعتیں بھی شامل ہیں ۔ آسام کے پانچ حلقوں تیزپور ‘ کلیابور‘

نئی دہلی ۔ /16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں جاری زبردست انتخابی گہما گہمی اور نریندر مودی و راہول گاندھی کے مابین عملاً صدارتی طرز کے مقابلہ کا باقاعدہ آغاز ہونے جارہا ہے ۔ چنانچہ نو مراحل کے پہلے مرحلہ میں کل دو ریاستوں کے چھ حلقوں میں رائے دہی ہوگی ۔ اس دوڑ میں کئی علاقائی جماعتیں بھی شامل ہیں ۔ آسام کے پانچ حلقوں تیزپور ‘ کلیابور‘ بورپیٹ ‘ دہروگڑھ اور لکھیم پور کے علاوہ تریپورہ ( ویسٹ ) میں تریپورہ حلقہ میں پیر کو رائے دہی مقرر ہے ۔ ان حلقوں میں انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے اور آخری لمحات تک بھی امیدواروں نے گھر گھر پہنچ کر اپنے حق میں مہم چلائی ۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ الفا کے کسی بھی گروپ نے خواہ وہ مذاکرات کی تائید یا مخالفت کرتا ہو ‘ رائے دہندوں کو انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی نہیں دی ۔ انہوں نے کسی مخصوص سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کی ہدایت بھی جاری نہیں کی ۔ کانگریس زیراقتدار ریاست آسام کے پانچ حلقوں میں کانگریس ‘ بی جے پی ترنمول کانگریس ‘ اے جی پی عام آدمی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدوار مقابلہ میں شریک ہیں ۔

جملہ 51 امیدواروں میں مرکزی وزراء رانی نراہ اور پبن سنگھ گھٹوور ‘چیف منسٹر ترون گوگوئی کے فرزند گورو گوگوئی اور دیگر شامل ہیں ۔ مذاکرات کی تائید کرنے والے الفا کمانڈر ہیرا سرانیا عرف نباکمار سراینا بھی بحیثیت آزاد امیدوار مقابلہ کررہے ہیں ۔ اس دوران بغاوت اور نکسلائیٹس سے متاثرہ ریاستوں میں ابتدائی تین مراحل کے انتخابات کے لئے سکیورٹی فورسیس کو تعینات کردیا گیا ہے ۔ فورسیس نے پہلے ہی ڈسٹرکٹ الکٹورل آفس کو رپورٹ کردی اور مختلف مقامات پر ان کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے ۔ سی آر پی ایف انسپکٹر جنرل (آپریشن) ذوالفقار حسن نے بتایا کہ انتخابی ڈیوٹی پر تعینات فورسیس کواب تک کوئی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہیں ہوا تاہم وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔ تین مراحل کی رائے دہی مکمل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسیس کی ایک بڑی تعداد کو یہاں سے دیگر مقامات پر منتقل کیا جائے گا ۔ جہاں آئندہ مراحل کی رائے دہی مقرر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے متعلق ڈیوٹی کی انجام دہی کیلئے تقریباً 1.3 لاکھ پیرا ملٹری اور پولیس پرسنول کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT