Wednesday , November 14 2018
Home / Top Stories / لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات، مودی کو کے سی آر کی تائید

لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات، مودی کو کے سی آر کی تائید

لاء کمیشن کو مکتوب، دستور میں ترمیم کی سفارش، اپوزیشن پر تنقید

حیدرآباد۔/8 جولائی، ( سیاست نیوز) مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کے ساتھ ٹی آر ایس کی قربت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اس کی تازہ مثال ملک میں لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کے سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے موقف کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی تائید ہے۔ کے سی آر نے صدر نشین لاء کمیشن آف انڈیا ڈاکٹر جسٹس بی ایس چوہان سابق جج سپریم کورٹ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے پارٹی کے موقف سے واقف کرایا۔ ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے چیف منسٹر کا مکتوب آج دہلی میں صدرنشین لاء کمیشن کے حوالے کیا اور ٹی آر ایس کے موقف اور اس کی وجوہات بیان کیں۔ لاء کمیشن لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کے سلسلہ میں قومی اور علاقائی جماعتوں سے رائے طلب کررہا ہے۔ ٹی آر ایس کو رائے پیش کرنے کیلئے آج کا دن مقرر کیا گیا تھا۔ کے سی آر نے اپنے مکتوب میں بیک وقت انتخابات کی تائید کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر نریندر مودی کی تائید کی ہے۔ اس طرح کے سی آر کو پھر ایک مرتبہ مودی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ڈاکٹر چوہان کو روانہ کردہ مکتوب میں کے سی آر نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات کیلئے کم سے کم 4 تا 6 ماہ کا وقت صرف کیا جاتا ہے اس مدت کے دوران ساری ریاست اور ضلع سطح پر انتظامیہ اور سیکورٹی مشنری مصروف ہوجاتی ہے۔ موجودہ طریقہ کار کے مطابق ہر سال دو مرتبہ چار تا چھ ماہ کا وقت انتخابی عمل میں کھپ جاتا ہے۔ اسی طرح طویل مدت کیلئے انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے سبب ریاستی حکومت کی جانب سے انجام دی جارہی ترقیاتی اور فلاحی سرگرمیاں متاثر ہوجاتی ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ اگر دونوں کے بیک وقت انتخابات نہ کرائے جائیں تو پانچ سال میں دو مرتبہ عوامی رقومات سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے بھی بھاری رقومات خرچ کرنی پڑتی ہیں۔ مذکورہ بالا صورتحال کی روشنی میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کی شدت سے حامی ہے۔ کے سی آر نے بتایا کہ وہ اپنی طئے شدہ مصروفیات کے سبب رکن پارلیمنٹ ونود کمار کو کمیشن کے روبرو تجاویز پیش کرنے کیلئے روانہ کررہے ہیں۔ دہلی میں کمیشن سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ونود کمار نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے جو تفصیلات پیش کی گئیں اس سے کمیشن کافی متاثر ہوا ہے۔ کمیشن کے صدرنشین نے خواہش کی ہے کہ ٹی آر ایس کے پاس موجود مواد کو تحریری طور پر پیش کیا جائے۔ ونود کمار نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے سی آر سے مشاورت کے بعد کمیشن کو تحریری مواد روانہ کریں گے۔ ونود کمار نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کا مسئلہ بی جے پی یا نریندر مودی کا ایجنڈہ نہیں ہے جس طرح کہ بعض گوشے تشہیر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1983 میں پہلی مرتبہ اس سلسلہ میں بحث کا آغاز ہوا۔ ملک اور ریاست کی ترقی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹی آر ایس کے سربراہ کے سی آر بیک وقت انتخابات کی تائید کررہے ہیں۔ مرکز میں حکومت کی تشکیل کے بعد ریاستوں کے انتخابات پر توجہ مرکوز ہوجاتی ہے جس سے ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ مرکز میں نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ہر سال کسی نہ کسی ریاست میں انتخابات منعقد ہورہے ہیں جس سے بھاری عوامی رقومات کا خرچ اور وقت ضائع ہورہا ہے۔ 2019ء میں دونوں تلگو ریاستوں میں انتخابات کا وقت مقرر ہے لہذا بیک وقت انتخابات میں کوئی نقصان نہیں۔ انہوں نے بیک وقت انتخابات کی بحث کی تائید کی اور اس کی مخالفت کو غیر ضروری قرار دیا۔ ونود کمار نے کہا کہ 1952 سے 1969 تک ملک میں لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوتے رہے۔ 1969 میں بعض ریاستی اسمبلیوں کی تنسیخ اور وسط مدتی انتخابات کے سبب اسمبلیوں کے انتخابات الگ الگ وقت پر آنے لگے ہیں۔ 1983 میں لاء کمیشن نے اس مسئلہ پر مباحث کا آغاز کیا لیکن سنجیدگی سے اسے جاری نہیں رکھا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور نیتی آیوگ نے دوبارہ اس مسئلہ پر مباحث شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی منتخب حکومت کو پانچ سالہ میعاد مکمل کرنا چاہیئے۔ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے بعد چیف منسٹرس کو لوک سبھا کی تیاری میں مصروف ہونا پڑ رہا ہے جس کے نتیجہ میں سارا نظم و نسق 6 ماہ تک ٹھپ ہوجاتا ہے۔ لوک سبھا کے بعد وزیر اعظم کو اسمبلیوں کے انتخابات پر توجہ دینی پڑ رہی ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ بیک وقت انتخابات کیلئے دستور میں ترمیم کی جانی چاہیئے تاکہ حکومتوں کو پانچ سال کا کا بھرپور موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کیلئے بیک وقت انتخابات کوئی مسئلہ نہیں ہیں کیونکہ یہ پہلے ہی سے ایک وقت پر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT