Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / لوک سبھا اور اسمبلی کی تمام نشستوں پر مقابلہ ‘ٹی جے ایس کا فیصلہ

لوک سبھا اور اسمبلی کی تمام نشستوں پر مقابلہ ‘ٹی جے ایس کا فیصلہ

ٹی آر ایس کی مطلق العنانی ‘ علحدہ تلنگانہ کے قیام کے باوجود مقصد حاصل نہ ہوسکا : کودنڈا رام
حیدرآباد۔ 15 اپریل (پی ٹی آئی) تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جو حال ہی میں ایک سیاسی پارٹی قائم کی ہے، 2019ء کے انتخابات میں اسمبلی اور پارلیمنٹ کی تمام نشستوں پر مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنائی ہے اور کہا کہ کسی بھی جماعت سے انتخابی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیرمین ایم کودنڈا رام جنہوں نے 2 اپریل کو تلنگانہ جنا سینا (ٹی جے ایس کا قیام عمل میں لایا تھا، آج کہا کہ ’’یہ ہمارا منصوبہ ہے… کہ تمام نشستوں پر مقابلہ کیا جائے‘‘۔ تلنگانہ میں 2019ء کے عام انتخابات کے ساتھ اسمبلی انتخابات بھی منعقد ہوں گے۔ اس سوال پر کہ آیا آئندہ سال کے انتخابات کی تیاریوں کے لئے خاطر خواہ وقت ہے، انہوں نے جواب دیا کہ سیاست میں شامل ہونے والے دوسروں کے برخلاف جے اے سی کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے سماجی زندگی میں سرگرم رہی ہے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ ’’ہم گزشتہ کئی سال سے سیول سوسائٹی گروپ کی حیثیت سے سرگرم رہے ہیں۔ درحقیقت تلنگانہ تحریک کے دوران بھی ہم سرگرم رہے ہیں چنانچہ ہمارے پاس نٹورک ہے اور ہم (عوام کے) مسائل سے واقف ہیں‘‘۔ ایک اور سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ’’ (2019ء کے انتخابات میں ہم کسی سے کوئی مفاہمت نہیں کریں گے‘‘۔ واضح رہے کہ جے اے سی دراصل علیحدہ تلنگانہ ایجی ٹیشن کی قیادت کرنے والی مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کا محاذ ہے اور ایجی ٹیشن کے وقت موجودہ حکمران جماعت ٹی آر ایس اور اُس وقت کی حکمران جماعت کانگریس بھی جے اے سی کا حصہ تھی۔ 2 جون 2014ء کو قیام تلنگانہ کے بعد بھی جے اے سی نے عوامی مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے خود کو سیول سوسائٹی گروپ کے طور پر سرگرم رکھا۔ کودنڈا رام نے الزام عائد کیا کہ ’’ہماری ریاست میں حکمران جماعت مطلق العنانی سے کام کررہی ہے اور ہم قیام تلنگانہ کے مقصد کے حصول کیلئے پیشرفت نہیں کرپارہے ہیں چنانچہ ہم نے پارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT