Saturday , August 18 2018
Home / سیاسیات / لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا پورا ہفتہ ضائع

لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا پورا ہفتہ ضائع

این ڈی اے کی حریف اور حلیف پارٹیوں کا مختلف مسائل پر احتجاج ، کارروائی تعطل کا شکار

نئی دہلی 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا کی کارروائی آج مسلسل پانچویں دن بھی نہیں ہوسکی۔ کیوں کہ پارٹیوں بشمول تلگودیشم اور انا ڈی ایم کے نے مختلف مسائل پر اپنا احتجاج جاری رکھا۔ یہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا پہلا ہفتہ تھا جس میں فینانس بِل 2018 ء اور مطالبات زر کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ تاہم لوک سبھا میں شوروغل کے مناظر جاری رہے اور ایوان میں پورا ہفتہ کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔ اپوزیشن کانگریس اور ترنمول کانگریس ملک کے دوسرے سب سے بڑے سرکاری زیرانتظام بینک پنجاب نیشنل بینک نے 12,700 کروڑ روپئے سے زیادہ مالیتی اسکام کے سلسلہ میں ایوان کے دونوں اجلاسوں میں مسلسل پُرشور احتجاج جاری رہا۔ آندھراپردیش کی پارٹیاں تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس ریاست کو خصوصی موقف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کررہی تھیں۔ مرکز کی جانب سے یہ موقف نہ دینے پر مایوس تلگودیشم پارٹی نے اپنے دو وزراء راجو اور چودھری کو مرکزی حکومت سے دستبردار کروالیا۔ تاہم این ڈی اے کی حلیف برقرار رہی۔ لوک سبھا کا اجلاس دوسرے دن بھی منعقد ہوا جس میں اسپیکر سمترا مہاجن نے پارلیمانی وفد برائے جنوبی کوریا کا خیرمقدم کیا۔ بعدازاں ایوان میں سابق ارکان پربود پانڈا ، شیاما سنگھ اور بھانو کمار شاستری جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس کے فوری بعد مختلف پارٹیوں کے ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے

جس پر اسپیکر یہ تبصرے کرنے پر مجبور ہوگئیں کہ ایک منٹ کی خاموشی منائی جائے۔ انا ڈی ایم کے، تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کے ارکان پلے کارڈس اُٹھائے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع تھے۔ انا ڈی ایم کے کاویری بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ کررہی تھی تاکہ پڑوسی ریاستوں سے کاویری کے پانی کا تنازعہ حل کیا جاسکے۔ دیگر چند ارکان دراویڑی تحریک کے بانی تنتائی پریار کے مجسمے کی بیحرمتی پر بطور احتجاج پلے کارڈ اُٹھائے ہوئے تھے۔ ٹی آر ایس تلنگانہ کے لئے کوٹے میں اضافہ کا مطالبہ کررہی تھی۔ تلگودیشم کے اشوک گجپتی راجو جنھوں نے کل وزارت شہری ہوا بازی سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ ایوان کے وسط میں کھڑے ہوئے دیکھے گئے۔ اُن کی پارٹی کے ساتھی آندھراپردیش کے لئے خصوصی موقف کا مطالبہ کررہے تھے۔ وہ بھی دوسروں کی طرح اپنی پارٹی کے رنگ کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ تلگودیشم کے ایک رکن پارلیمنٹ ایک مورتی اُٹھائے ہوئے تھے۔ دوسرا رنگ برنگا روایتی سرپوش پہنے ہوئے تھا۔ کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں پی این بی اسکام کے سلسلہ میں احتجاج کررہے اور پلے کارڈس اُٹھائے ہوئے تھے جن میں نیرو مودی کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسپیکر نے شوروغل کی وجہ سے پہلے اجلاس دوپہر تک اور شوروغل جاری رہنے پر دن بھر کے لئے ملتوی کردیا۔ راجیہ سبھا کا اجلاس بھی حلیف اور حریف پارٹیوں کے مسلسل احتجاج کی وجہ سے آج دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT