Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی مسلسل چوتھے روز ہنگامہ آرائی کی نذر

لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی مسلسل چوتھے روز ہنگامہ آرائی کی نذر

2G اسپکٹرم معاملے میں تمام ملزمین کی برأت کے بعد زبردست ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی، اپوزیشن کا واک آؤٹ
’’۔2جی پروپگنڈہ بے بنیاد تھا، میں بڑی بڑی باتیں نہیں کرتا
فیصلہ اپنی کہانی خود کہہ رہا ہے ‘‘: سابق وزیراعظم منموہن سنگھ

نئی دہلی21دسمبر(سیاست ڈاٹ کام )2جی اسپیکٹرم معاملے میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے بشمول سبھی ملزمین کوسی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ذریعہ بری کئے جانے کے معاملے کے سلسلے میں کانگریس نے آج راجیہ سبھا میں جم کر ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر ایوان میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے گجرات انتخابات کے دوران سابق وزیراعظم من موہن سنگھ پر وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ غلط الزام لگانے کا موضوع اٹھاتے ہوئے مودی سے وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ آج ایوان میں وزیراعظم سے سوال پوچھنے کا دن ہوتا ہے ،ہم ایک ہفتے سے انتظار کررہے ہیں کہ وزیراعظم ایوان میں آکر وضاحت دیں گے ۔اسی دوران پارلیمانی امور کے وزیر وجے گوئل نے اعتراض کیا کہ وزیراعظم پر غلط بیانی کرنے کاالزام نہ گائیں۔غلام نبی آزاد نے اس کے بعد 2جی معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی بدعنوانی کی جھوٹی تشہیر کرکے اقتدار میں آئی جبکہ سی بی آئی عدالت نے سبھی الزامات سے بری کردیا ہے ۔اسی دوران کانگریس کے اراکین جم کر نعرے بازی کرنے لگے اور چیئرمین کی کرسی کے پاس پہنچ گئے ۔تقریباً 20اراکین اسمبلی نے دونوں طرف سے مسٹر نائیڈو کو گھیر کر نعرے بازی شروع کردی۔دریں اثناء منموہن کی اہانت کے معاملے پر لوک سبھا میں مسلسل تیسرے روز ہنگامہ جاری رہا اور بیجو جنتا دل کے ممبران پارلیمنٹ نے مہاندی کے معاملے پر آج لوک سبھا سے واک آؤٹ کیا۔ صبح وقفہ سوالات کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس کے ارکان نے گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر الیکشن میںبی جے پی کو شکست دینے کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر سازش کے الزامات کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی۔ وہ اسپیکر سمترا مہاجن سے اس معاملے پر انہیں اپنی بات رکھنے کی اجازت مانگ رہے تھے لیکن اسپیکر نے ان کو اجازت نہیں دی ۔ اس پر کانگریس کے ارکان ہنگامہ مچانے لگے ۔ مشتعل اراکین ‘وزیر اعظم معافی مانگو’، ‘وزیر اعظم شرم کرو’، ‘جھوٹے الزام لگانا بند کرو؛ کے نعرے لگارہے تھے ۔ ہنگامے کے درمیان ہی اسپیکر نے وقفہ سوالات کی کارروائی مکمل کی اور ضروری دستاویزات ایوان کے ٹیبل پر رکھوایے ۔ دریں اثناء سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج کہا کہ 2 جی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس کے سلسلے میں ا ن کی حکومت کے خلاف جو بڑے پیمانے پر وپگنڈہ کیا گیا تھا وہ بالکل بے بنیاد تھا۔ڈاکٹر سنگھ نے یہاں پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بڑی بڑی باتیں نہیں کرنا چاہتا ۔ فیصلہ اپنی کہانی خود کہہ رہا ہے‘ ۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ عدالت کے حکم کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ مجھے خوشی ہے کہ عدالت نے واضح طورپر کہا ہے کہ یو پی اے کے خلاف پروپگنڈہ بے بنیاد تھا۔ واضح رہیکہ جس زمانے میں اسپیکٹر م الاٹمنٹ ہوا تھا اس وقت ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے ۔

 

عدالتی فیصلے سے یو پی اے حکومت کیخلاف پروپگنڈہ کی توثیق
2G کیس میں تمام ملزمین کی برأت پر منموہن سنگھ کا ردعمل ‘ بی جے پی سے وضاحت طلبی

نئی دہلی ۔ 21ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام )سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے آج2G اسپکٹرم الاٹمنٹ اسکام کے تعلق سے سنائے گئے فیصلے کے بعداپنے اولین ردعمل میں الزامات منسوبہ سے بری ہونے والی ڈی ایم کے لیڈر کنی موزی نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہیںجو اس دوران ان کے حامی رہے۔ فیصلے کے بعد کانگریسی قائدین نے بھی بی جے پی کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔سابق وزیر اعظم منموہنسنگھ نے کہا کہ 2 جی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس سلسلے میں ا ن کی حکومت کے خلاف جو بڑے پیمانے پر وپگنڈہ کیاگیاوہ بالکل بے بنیاد تھا۔ڈاکٹر سنگھ نے یہاں پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا : ’’میں بڑی بڑی باتیں نہیں کرنا چاہتا ۔ فیصلہ اپنی کہانی خود کہہ رہا ہے ۔ عدالت کے حکم کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ مجھے خوشی ہے کہ عدالت نے واضح طورپر کہا ہے کہ یو پی اے کے خلاف پروپگنڈہ بے بنیاد تھا۔‘‘ سابق وزیر مواصلات کپل سبل نے اسے قانونی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں کسی طرح کا نقصان نہیں ہونے کی ان کی بات درست ثابت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر جن لوگوں نے الزام لگائے انہیں اب معافی مانگنی چاہئے ۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر ایم پی ‘پی چدمبرم نے کہا کہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں پر گھپلے کے الزام کبھی درست نہیں تھے اور یہ اب ثابت ہوگیا ۔کانگریس نے مزید کہا کہ ٹوجی گھپلہ پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں تمام ملزمین کے بری ہونے سے آج واضح ہوگیا کہ بی جے پی نے اقتدار کے لئے سازش کرکے ملک کے عوام کو گمراہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس ارون جیٹلی کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ٹو جی گھپلے میںجو فیصلہ سامنے آیا ہے اس سے دودھ کا دودھ او رپانی کا پانی ہوگیا ہے ۔ بی جے پی اور اس کے چوٹی کے قائدین کی طرف سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے بولا گیا جھوٹ سامنے آگیا ہے اور اب مودی اورجیٹلی جواب دہی سے نہیں بچ سکتے ہیں۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ اس معاملے میں سچائی سب کے سامنے آچکی ہے ۔ بی جے پی نے ٹوجی بدعنوانی کو اقتدار کی سیڑھی بنایا اور اس کا خوب پروپیگنڈہ کیا اور اس جھوٹ کا پھل انہیں اقتدار کی صورت میں مل بھی گیا۔ اب ان کا جھوٹ پکڑا گیا ہے اور اس کے لئے انہیں معافی مانگنی چاہئے ۔ معافی صرف کانگریس اور ملک سے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا سے مانگنی چاہئے کیوں کہ اسے دنیا کا سب سے بڑا گھپلہ کہہ کر پروپیگنڈہ کیاگیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ یو پی اے حکومت کو بدنام کرنے کے لئے یہ تانا بانامودی اور جیٹلی اور سابق کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل ونود رائے نے مل کر تیار کیا تھا ۔ ایک ماحول بنایا گیا اور ملک کو بدنام کیا گیا ۔2G کیس میں جب بی جے پی اپوزیشن میں تھی تو اس نے کافی ہنگامہ آرائی کی تھی اور ایوان کی کارروائیوں کو کئی بار تعطل کا شکار بنادیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT