Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / لوک سبھا حیدرآباد اور 7 اسمبلی حلقوں میں عوامی ناراضگی

لوک سبھا حیدرآباد اور 7 اسمبلی حلقوں میں عوامی ناراضگی

حیدرآباد ۔19 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) حالیہ عام انتخابات میں رائے دہندوں نے اپنے سیاسی شعور کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پہلی مرتبہ رائے دہندوں کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ تمام امیدواروں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کریں۔ حالیہ انتخابات میں پہلی مرتبہ الکٹرانک ووٹنگ مشین میں NOTA کا بٹن شامل کیا گیا جس کا مطلب کسی بھ

حیدرآباد ۔19 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) حالیہ عام انتخابات میں رائے دہندوں نے اپنے سیاسی شعور کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پہلی مرتبہ رائے دہندوں کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ تمام امیدواروں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کریں۔ حالیہ انتخابات میں پہلی مرتبہ الکٹرانک ووٹنگ مشین میں NOTA کا بٹن شامل کیا گیا جس کا مطلب کسی بھی امیدوار کی تائید نہ کرنا ہے۔ اگرچہ پہلی مرتبہ اس بٹن کو متعارف کیا گیا لیکن پرانے شہر کے حلقہ جات میں عوام نے امیدواروں سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کیلئے اس بٹن کا استعمال کیا۔ عام طور پر امیدواروں یا موجودہ عوامی نمائندے سے ناراض رائے دہندے خود کو رائے دہی سے دور رکھتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے نوٹا بٹن کے ذریعہ رائے دہندوں کو اپنی ناراضگی کے اظہار کا موقع دیا۔ یہی وجہ ہے کہ رائے دہندوں نے شدید گرمی کے دوران قطار میں ٹھہر کر نوٹا کے بٹن کا استعمال کرتے ہوئے اپنی رائے دنیا کے سامنے رکھی ۔ پرانے شہر کے اسمبلی حلقوں اور لوک سبھا نشست پر اپنی مقبولیت اور کارکردگی کے ذریعہ کامیابی کا دعویٰ کرنے والی مقامی جماعت کو اس وقت حیرت ہوئی جب ان کے حلقہ جات میں ہزاروں کی تعداد میں رائے دہندوں نے انہیں مسترد کردیا ۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق حلقہ لوک سبھا حیدرآباد اور اس کے تحت آنے والے 7 اسمبلی حلقوں میں جملہ 11,145 رائے دہندوں نے نوٹا بٹن دباکر تمام امیدواروں کو مسترد کردیا۔

مقامی جماعت ان حلقوں کو اپنا گڑھ تصور کرتی ہیں لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے نوٹا بٹن کا استعمال ان کے دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کرتا ہے۔ حلقہ لوک سبھا حیدرآباد میں جملہ 5013 رائے دہندوں نے نوٹا بٹن کا استعمال کیا جبکہ 7 اسمبلی حلقوں میں 6132 رائے دہندوں نے تمام امیدواروں کو مسترد کردیا۔ حلقہ جات کے اعتبار سے حلقہ اسمبلی چار مینار میں 958 رائے دہندوں نے تمام امیدواروں کو مسترد کردیا۔ جبکہ ملک پیٹ میں 856 ، گوشہ محل 1076 ، بہادر پورہ 1242 ، چندرائن گٹہ 503 ، کاروان 587 اور یاقوت پورہ میں 910 رائے دہندوں نے تمام امیدواروں کے خلاف اپنی رائے دی۔ عوام کا یہ موقف موجودہ عوامی نمائندوں کی عدم کارکردگی پر ناراضگی کا واضح ثبوت ہے۔ اسی دوران حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے رائے دہندوں نے مقامی جماعت کے لوک سبھا امیدوار کے خلاف اپنی ناراضگی کا ثبوت کچھ اس طرح دیا کہ اس حلقہ میں لوک سبھا امیدوار سے زیادہ اسمبلی امیدوار کو ووٹ حاصل ہوئے۔ تلگو روزنامہ ایناڈو کے مطابق حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے 7 اسمبلی حلقوں میں حلقہ یاقوت پورہ میں 33,421 ووٹ لوک سبھا امیدوار کو کم حاصل ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس حلقہ میں اسمبلی امیدوار کو 66,843 حاصل ہوئے جبکہ اسی پارٹی کے لوک سبھا امیدوار کو 33,422 ووٹ حاصل ہوئے ۔ اس طرح حلقہ یاقوت پورہ کے رائے دہندوں نے مقامی جماعت کو جھلک دکھائی ہے۔ اس کے علاوہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں اسمبلی امیدوار کے مقابلہ لوک سبھا امیدوار کو 312 ووٹ کم حاصل ہوئے۔ جبکہ حلقہ اسمبلی کاروان میں اسمبلی امیدوار کے مقابلہ لوک سبھا امیدوار کو صرف 279 ووٹ اور حلقہ بہادر پورہ میں 1591 ووٹ زائد حاصل ہوئے۔ چارمینار اور چندرائن گٹہ اسمبلی حلقوں میں لوک سبھا امیدوار کو اسمبلی امیدواروں سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے جو کہ رائے دہندوں کی اسمبلی امیدواروں سے ناراضگی کا ثبوت ہے۔ چارمینار میں لوک سبھا امیدوار کو 35059 اور چندرائن گٹہ میں 19,677 ووٹ اسمبلی امیدوار سے زائد ملے۔ اسی دوران حلقہ لوک سبھا سکندرآباد میں 6572 امیدواروں نے اس حلقہ کے تمام امیدواروں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی رائے ظاہر کی ۔

TOPPOPULARRECENT