Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / لوک سبھا سکندرآباد میں سیکولر ووٹ تقسیم سے بچانے عوام کوشاں

لوک سبھا سکندرآباد میں سیکولر ووٹ تقسیم سے بچانے عوام کوشاں

کانگریس اور بی جے پی کی روایتی قیادت سے بیزارگی، وائی ایس آر کانگریس کے حق میں رائے عامہ

کانگریس اور بی جے پی کی روایتی قیادت سے بیزارگی، وائی ایس آر کانگریس کے حق میں رائے عامہ

حیدرآباد۔/5اپریل، ( سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے رائے دہندے مجوزہ عام انتخابات میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس لوک سبھا حلقہ کو روایتی بی جے پی اور کانگریس کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے رائے دہندوں کی نظریں وائی ایس آر کانگریس کی طرف اُٹھ رہی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں عوام نے گذشتہ چار عام انتخابات میں حلقہ سے منتخب ہونے والے بی جے پی اور کانگریس امیدواروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس مرتبہ تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کی مہم شروع کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حلقہ میں کانگریس کے موجودہ رکن پارلیمنٹ کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے اور حلقہ کے تحت آنے والے اسمبلی حلقہ جات میں بھی کانگریس کا موقف کمزور ہوچکا ہے۔ ان حالات میں حلقہ کے سیکولر رائے دہندے دوبارہ بی جے پی یا کانگریس کے بجائے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں حلقہ لوک سبھا سکندرآباد میں کئی ایک ترقیاتی اور فلاحی کام انجام دیئے گئے۔ حلقہ کے مسلم اور عیسائی رائے دہندے چاہتے ہیں کہ سیکولر ووٹ تقسیم ہونے نہ پائیں، کیونکہ تقسیم کا راست فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔ بی جے پی کو درپردہ فائدہ پہنچانے کیلئے اگرچہ بعض مقامی جماعتیں کوشش کررہی ہیں لیکن رائے دہندے بی جے پی کو دوبارہ کامیاب بنانے کیلئے تیار نہیں اور بعض مقامی جماعتوں کی سرگرمیوں سے عوام ناراض ہیں۔ کمزور طبقات، اقلیتیں اور سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے رائے دہندے ملک کے دیگر علاقوں اور خاص طور پر دہلی کے تجربہ کی بنیاد پر تبدیلی کے حق میں فیصلہ سنانے کا من بناچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اپنے موجودہ رکن پارلیمنٹ کو ہی دوبارہ ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تلگودیشم ۔ بی جے پی امکانی مفاہمت کے پیش نظر یہ نشست بی جے پی کے حق میں جاسکتی ہے۔سکندرآباد لوک سبھا حلقہ کے تحت موجود تلگودیشم کے حامی رائے دہندے بھی اس مفاہمت کے خلاف ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ فرقہ پرست جماعت کے حق میں ان کا ووٹ جائے۔ تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد کے سبب سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکنا بے حد ضروری ہوچکا ہے۔ ان تبدیل شدہ حالات میں حلقہ کے تعلیم یافتہ رائے دہندے تبدیلی کے منتظر ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار کو میدان میں اُتارا ہے جبکہ ٹی آر ایس نے درج فہرست اقوام سے تعلق رکھنے والے قائد کو امیدوار بنانے کا اعلان کیا۔اگر سیکولر اور کمزور طبقات کے ووٹ منقسم ہوتے ہیں تو بی جے پی کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

رائے دہندے بی جے پی اور کانگریس کو تین مرتبہ اس حلقہ سے نمائندگی کا موقع دے چکے ہیں۔ تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد کے سبب اقلیتی رائے دہندے اپنے ووٹ کے استعمال کے بارے میں اُلجھن کا شکار ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کمزور طبقات متحدہ طور پر رائے دہی کے ذریعہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو سکندرآباد حلقہ میں خدمت کا موقع فراہم کیا جائے۔اس لوک سبھا حلقہ کے تحت موجود مشیرآباد، عنبرپیٹ، خیریت آباد، جوبلی ہلز اور نامپلی اسمبلی حلقوں میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو خاصی عوامی تائید حاصل ہورہی ہے اور عوام خود بڑھ کر وائی ایس آر پارٹی قائدین کو اس حلقہ سے مقابلہ کی صلاح دے رہے ہیں۔سکندرآباد لوک سبھا حلقہ کو روایتی امیدواروں اور فرقہ پرست طاقتوں کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے اگر کمزور طبقات اور اقلیتیں متحدہ طور پر رائے دہی کریں تو وہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ کئی علاقوں میں عوام نے اپنے طور پر وائی ایس آر کانگریس کے دفاتر قائم کرتے ہوئے ابھی سے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ خیریت آباد، جوبلی ہلز، عنبرپیٹ، صنعت نگر اور مشیرآباد میں وائی ایس آر کانگریس قائدین کا عوام پُرجوش استقبال کررہے ہیں۔ اقلیتی رائے دہندے ایک مقامی جماعت کی جانب سے مسلم ووٹ تقسیم کرنے سے متعلق کوششوں سے ناراض ہیں اور اُن کا ماننا ہے کہ مقامی جماعت کو اپنا امیدوار کھڑا کرتے ہوئے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے بجائے مقابلہ سے گریز کرنا چاہیئے تاکہ عوام اپنی پسند کے مطابق سیکولر اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے امیدوار کو منتخب کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT