Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / لوک سبھا ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی ہمیشہ ناکامی

لوک سبھا ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی ہمیشہ ناکامی

چار برسوں میں 15 میں سے صرف 4 حلقوں میں کامیابی، ای وی ایم کے استعمال کو ہر حال میں روکنا ضروری

نئی دہلی۔14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عام انتخابات 2014ء میں مودی لہر کے بعد بی جے پی مرکز میں اقتدار تو ضرور حاصل کی ہے تاہم اس کے بعد گزشتہ چار برسوں کے دوران ملک بھر کے 15 لوک سبھا حلقوں میں منعقد ہونے و الے ضمنی انتخابات میں بی جے پی ہمیشہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔ 14 مارچ کو گورکھپور ، پھولپور اور بہار میں حلقہ لوک سبھا ارریہ میں بی جے پی کی شرمناک شکست کے بعد بی جے پی اس بات پر متفق دکھائی دے رہی ہے کہ ضمنی انتخابات میں اسے کامیابی کی فیصد پچھلے 4 سال میں کم سے کم تر درج کی جارہی ہے۔ اگر ضمنی انتخابات کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پچھلے 4 سالوں میں ملک بھر میں 15 لوک سبھا حلقوں میں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے ہیں جس میں سے بی جے پی صرف چار حلقوں میں ہی کامیابی حاصل کرپائی ہے۔ باقی تمام نشستوں پر اسے (بی جے پی) دوسرے، تیسرے اور کئی نشستوں پر پانچویں نمبر پر جگہ ملی ہے۔ سال 2014ء میں جب بی جے پی مرکز میں برسر اقتدار آئی تو اسی سال مجموعی طور پر چھ حلقہ لوک سبھا میں ضمی انتخابات منعقد ہوئے تھے جس میں صرف دو حلقوں میں بی جے پی کامیابی حاصل کرسکی جبکہ مابقی تین نشستوں پر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حلقوں میں اڑیشہ کے کندھامل جہاں بیجو جنتادل کے مقابلہ بی جے پی تقریباً 3 لاکھ ووٹوں سے شکست کھا گئی۔ اسی طرح تلنگانہ کے میدک اور اترپردیش کے حلقہ لوک سبھا مین پوری میں بھی بی جے پی کو تین تین لاکھ ووٹوں سے شکست فاش ہوئی۔ البتہ مہاراشٹرا کے حلقہ لوک سبھا بیڑ میں بی جے پی نے 7 لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح گجرات کے بڑودہ میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو 3.25 لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد 2015ء میں مغربی بنگال کے بنگائوں حلقہ لوک سبھا سے بی جے پی کو 2.25 لاکھ ووٹوں سے شکست ہوگئی۔ اس کے بعد سال 2016ء میں آسام کے لکھم پور سے ایک بار پھر بی جے پی کو چار ہزار ووٹوں سے کامیابی ملی جبکہ مدھیہ پردیش کے شہڈول حلقہ میں 60 ہزار ووٹوں سے کامیابی ملی تھی۔ جبکہ ا اسی سال بی جے پی کو مغربی بنگال کے حلقہ کاملوک میں 6 لاکھ ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح کوچ بہار (مغربی بنگال) میں بھی بی جے پی 4 لاکھ ووٹوں سے ناکام ہوگئی۔ سال 2017ء بھی بی جے پی کے لیے مایوس کن سال رہا جہاں پنجاب کے گروداس پور میں کانگریس نے بی جے پی کو 2 لاکھ ووٹوں سے شکست دی جبکہ مدھیہ پردیش کے جھبووا حلقہ لوک سبھا سے کانگریس نے بی جے پی کو 89 ہزار ووٹوں سے شکست دی اور اب 2018ء میں ایک بار پھر بی جے پی کو بہت بری طرح سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا ۔ تاہم سیاسی مبصرین اور سماجی جہدکاروں کا خیال ہے کہ 2019ء عام انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کو روکنا ضروری ہے تاکہ جمہوری اقدار پر ہر ہندوستانی شہری کا بھروسہ قائم رہے۔

TOPPOPULARRECENT