Monday , April 23 2018
Home / Top Stories / لوک سبھا مسلسل 20 ویں دن بھی ہنگامہ آرائی کا شکار

لوک سبھا مسلسل 20 ویں دن بھی ہنگامہ آرائی کا شکار

اے آئی اے ڈی کے کے ارکان کا کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کے مسئلہ پر شور و غل، کارروائی دن بھرکیلئے ملتوی

نئی دہلی، 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں اے آئی اے ڈی کے کے ہنگامے کی وجہ سے مودی حکومت کے خلاف لائی گئی پہلی عدم اعتماد تحریک کے نوٹسوں پر آج بھی غور نہیں کیا جا سکا اور ایک بار ملتوی کے بعد کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کے قیام کے کو لے کر اے آئی اے ڈی کے کے ارکان کے ہنگامے کی وجہ سے وقفہ سوالات میں ایک بار ملتوی کے بعد دوپہر 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ھونے پر ایوان کا وہی نظارہ تھا۔ کارروائی دوبارہ شروع ہوتے ہی اے آئی اے ڈی کے کے رکن اسپیکر کی چیئر کے قریب آکر نعرے لگانے لگے ۔اپنے مطالبات کی حمایت میں ہاتھوں میں پلے کارڈ لیے یہ رکن ‘ہمیں انصاف چاہیے اور ہمیں کاویری مینجمنٹ بورڈچاہئے کے نعرے لگا رہے تھے ۔ اس دوران تلگو دیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن پرسکون انداز میں اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے تھے ۔ ٹی ڈی پی ممبران نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ لے رکھے تھے جس پر آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دیئے جانے سے متعلق مطالبات لکھے تھے ۔ کانگریس ممبر پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلہ نے پوسٹر باندھ رکھا تھا جس پر انگریزی اور گرومکھي میں لکھا تھا ‘گولڈن ٹیمپل میں لنگر پر سے جی ایس ٹی ہٹاچاہئے ‘۔ہنگامے کے درمیان ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے ضروری دستاویزات ایوان میں رکھوائے ۔ اس کے بعد کانگریس کے سنیل جاکھڑ اپنی سیٹ سے کھڑے ہوکرکچھ کہنے لگے ، لیکن شور و غوغا میں کچھ بھی سنائی نہیں دیا۔ اسپیکر نے کہا کہ ان کو عدم اعتماد کی تحریک کیلئے نوٹس ملے ہیں لیکن ایوان میں شور و غل اورہنگامہ کی وجہ سے وہ ان پر کارروائی کو آگے نہیں بڑھا پا رہی ہیں۔ اسپیکر نے نعرے لگارہے اے آئی ڈی ایم کے کے ارکان سے اپنی اپنی نشستوں پر جانے کو کہا، لیکن ان کی اپیل کاان ارکان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور نعرے لگاتے رہے ۔ ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے 12 بجکر 12 منٹ پر کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے صبح کارروائی شروع ہونے پر اے آئی ڈی ایم کے کے رکن ہاتھوں میں تختیاں لیے اسپیکر کی چیئر کے قریب آکر زور زور سے ’ہمیں انصاف چاہیے‘اور ’ہمارا مطالبہ – کاویری بورڈ‘ کے نعرے لگانے لگے۔ اس دوران ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے تھے ۔ اسپیکر نے شور شرابے کے درمیان ہی وقفہ سوالات شروع کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اے آئی ڈی ایم کے کے ارکان سے ایوان میں امن وامان برقرارکھنے اور اپنی اپنی نشستوں پر جانے کی اپیل کی، لیکن جب ہنگامہ کر رہے ارکان پر ان کی باتوں کا اثر نہیں ہوا تو انہوں نے کارروائی دوپہر 12 بجے تک کیلئے ملتوی کر دی۔ 5 مارچ سے شروع بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن سے ہی الگ الگ ایشوز پر اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی مسلسل روکنا پڑ رہی ہے۔
اور ایک بھی دن وقفہ سوالات نہیں ہو سکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT