Saturday , December 15 2018

لوک سبھا میں بجٹ مباحث کے بغیر منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ

نئی دہلی ، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا نے آج مباحث کے بغیر فینانس بل 2018ء اور یکم اپریل کو شروع ہونے والے اگلے مالی سال کیلئے 89.25 لاکھ کروڑ روپئے کے منصوبہ مصارف کو محض 25 منٹ میں منظوری دے دی، جس کے دوران اپوزیشن پارٹیوں نے نعرے بازی کی اور شوروغل برپا کیا۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی کی 21 ترامیم برائے فینانس بل جن میں 2018-19ء کی ٹیکس تجاویز شامل ہیں، ندائی ووٹ کے ذریعے منظور کرلئے گئے، اور اسی طرح تصرف بل کا معاملہ رہا جس میں 99 حکومتی وزارتوں اور محکمہ جات کیلئے مصارف منصوبوں کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ اس اقدام کے ساتھ لوک سبھا میں مودی حکومت کے پانچویں و قطعی بجٹ کیلئے پارلیمانی منظوری مکمل ہوگئی ہے۔ یہ حالیہ برسوں میں شاید پہلی مرتبہ ہے کہ لوک سبھا میں کسی بھی وزارت کے مطالباتِ زر (منصوبہ مصارف) پر کوئی مباحث ہوئے اور نا ہی رائے دہی۔ ماضی قریب میں مرکزی بجٹ تجاویز کو آج کی طرح مباحث کے بغیر 2013-14ء اور 2003-04ء میں منظوری دی گئی تھی۔ ارون جیٹلی نے سبھی وزارتوں اور محکمے کی گرانٹس مانگیں (گلے ٹین)، ان سے متعلقہ تصرف بل پاس کرانے کے لیے پیش کیا۔ جسے ایوان نے ہنگامہ کے دوران صوتی ووٹ سے پاس کردیا۔اس کے بعد انہوں نے فائنانس بل 2018کو 21 ترمیمات کے ساتھ غور کرنے اور پاس کرانے کے پیش کیا جسے ایوان نے بغیر بحث کے منظور کردیا۔ اسی دوران کانگریس، ترنمول کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ممبران ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔ رواں مالی سال کی ضمنی مطالبات زر اور متعلقہ تصرف بل بھی بغیر کسی بحث کے پاس کردیئے گئے۔ لوک سبھا نے تصرف بلوں کو اپوزیشن پارٹیوں کی پیش کردہ کئی تحریکات کو مسترد کرتے ہوئے منظوری دی ہے۔ چونکہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کی کارروائی بجٹ سیشن کے دوسرے نصف میں مختلف مسائل جیسے پی این بی میں پیش آئے ملک کے سب سے بڑے بینک فراڈ، کاویری کے پانی کی تقسیم، آندھرا پردیش کیلئے اسپیشل پیاکیج پر مفلوج کررکھی ہے، اس لئے حکومت نے بجٹ کو منظوری کیلئے پیش کردینے کا فیصلہ کیا حالانکہ رواں سیشن طے شدہ پروگرام کے مطابق 6 اپریل تک چلنا ہے۔بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ 5 مارچ کو شروع ہونے کے بعد سے ہی ایوان میں حزب مخالف کے ممبران او برسراقتدار یوپی اے کی حمایتی تلگو دیشم پارٹی کے ہنگامہ کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوپائی ہے۔ حال کے سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی وزارت کی مطالبات زر اور فائنانس بل کی ایوان میں بغیر کسی بحث کے پاس کردیاگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT