Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / لوک سبھا میں ترنمول کانگریس اسٹنگ آپریشن کی وجہ سے مشکلات کا شکار

لوک سبھا میں ترنمول کانگریس اسٹنگ آپریشن کی وجہ سے مشکلات کا شکار

تحقیقات کروانے حکومت کی تجویز ، کانگریس ، بایاں بازو اور بی جے پی ٹی ایم سی کیخلاف متحد، ترنمول کی حوصلہ شکنی ناممکن: ممتا بنرجی
نئی دہلی 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ترنمول کانگریس نے آج لوک سبھا میں خود کو سخت مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے پایا جو ایک اسٹنگ آپریشن کی وجہ سے تھا۔ حکومت کا اصرار تھا کہ ’’سچائی کو غالب رہنا چاہئے‘‘ اُس نے مبینہ رشوت خوری الزامات کی جو ترنمول کانگریس کے بعض ارکان پارلیمنٹ کے خلاف عائد کئے گئے ہیں، تحقیقات پر اصرار کیا۔ ایوان میں بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو نے متحدہ طور پر ترنمول کانگریس کو اِس مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ حالانکہ ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ الزامات ایک سیاسی سازش ہیں جو مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کی گئی ہے۔ ترنمول کانگریس اور بائیں بازو پارٹی ارکان کے درمیان گرما گرم زبانی تکرار دیکھی گئی جبکہ سی پی آئی (ایم) کے محمد سلیم نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اُٹھایا جس کے بعد بی جے پی کے ایس ایس اہلووالیہ اور کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے بھی ترنمول کانگریس کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اسٹنگ آپریشن کی تحقیقات میں کئی ترنمول کانگریس قائدین کو ایک فرضی خانگی کمپنی کو مدد دینے کے لئے رقم حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تینوں پارٹیوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیاکہ اُن کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پارلیمنٹ کو یاد دہانی کی گئی کہ اِسی قسم کے الزامات پر چند سال قبل 11 ارکان پارلیمنٹ کو معطل کیا گیا تھا۔ ارکان کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ پارلیمنٹ کا وقار داؤ پر ہے، ہمیں سچائی کا ثبوت دینا ہوگا۔ صرف یہ کہنا کہ یہ ایک سازش ہے ناکافی ہے، اِس سے عوام مطمئن نہیں ہوں گے۔ یا تو حکومت کو تحقیقات کروانی چاہئے یا اسپیکر تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے محمد سلیم نے کہاکہ ہم شرمندہ ہیں کہ عوام کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، ہمیں اِن سب پر اپنی شرمندگی ظاہر کرنی ہوگی۔ پارلیمنٹ کا وقار اُس کے کردار پر منحصر ہوتا ہے۔

اُنھوں نے مطالبہ کیاکہ ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہئے جو اِن الزامات کی تحقیقات کرے، ترنمول کانگریس کے ارکان زیادہ تر وقت خاموش بیٹھے رہے۔ سلیم کے بعد اہلووالیہ اور ادھیر رنجن چودھری نے بھی اُنھیں تنقید کا نشانہ بنایا لیکن برہم لب و لہجہ میں زبانی تکرار کا آغاز اُس وقت ہوا جبکہ ترنمول کانگریس کے قائد سوگٹ رائے جو اُن ارکان پارلیمنٹ میں شامل ہیں جنھیں اسٹنگ آپریشن میں دکھایا گیا ہے، اپنی پارٹی کے دفاع کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ترنمول کانگریس ارکان اور بعض کانگریس اور بائیں بازو کے ارکان کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہوئے دیکھا گیا جسے اسپیکر نے کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت دی۔ اہلووالیہ نے کہاکہ یہ پارلیمنٹ اور جمہوری نظام کے لئے پریشان کن صورتحال ہے، اسے اخلاقیات کمیٹی کے سپرد کردینا چاہئے۔ اُنھوں نے یاد دہانی کی کہ کئی ارکان کو ایوان سے خارج کردیا گیا تھا جبکہ وہ اسی طرح اسٹنگ آپریشنس کے الزامات میں 2005-06 ء کے دوران پھنس گئے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ ایوان کے وقار کا معاملہ ہے۔ ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ پکڑے گئے ہیں، اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ادھیر رنجن چودھری نے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سوگٹ رائے نے اظہار حیرت کیاکہ اسپیکر سمترا مہاجن اِس مسئلہ کو اٹھانے کی ارکان کو کیسے اجازت دے رہی ہیں۔ اِس کا فیصلہ ہونا چاہئے۔ اُنھوں نے بے چینی سے کہاکہ مجھے یہ دن دیکھنے کے لئے زندہ رہنا تھا۔

اسٹنگ آپریشن ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے جو مغربی بنگال انتخابات سے پہلے سی پی آئی، کانگریس اور بی جے نے رچی ہے۔ اُنھوں نے یقین ظاہر کیاکہ تینوں سیاسی پارٹیوں کو ناکامی ہوگی۔ تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے سوگٹ رائے نے کہاکہ اِس مسئلہ پر ایوان میں اعتراضات کئے گئے ہیں۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ارکان کو عوام پر یہ تاثر ظاہر نہیں کرنا چاہئے کہ ہم کسی نہ کسی بہانے کی تلاش میں ہیں یا کوئی چیز پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے واضح نہیں ہے۔ لیکن کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے اور پارلیمنٹ کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ شاکی ارکان خبررساں چیانل کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں، اگر اُن کا یہ احساس ہے کہ یہ اسٹنگ آپریشن ’’جھوٹا‘‘ ثابت ہوگا۔ نائیڈو نے پرزور انداز میں صدرنشین سے کہاکہ وہ اِس بات کا نوٹ لیں اور اعادہ کیاکہ حکومت تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے یا پھر خود اسپیکر اِس معاملہ کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ راجیہ سبھا میں بائیں بازو کی پارٹیوں اور بی جے پی نے بار بار اسٹنگ آپریشن کا مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن نائب صدرنشین پی جے کورین نے اجازت نہیں دی۔ سی پی آئی (ایم) تپنگ کمار سین چاہتے تھے کہ ایوان کی ایک کمیٹی اِس مسئلہ کی  تحقیقات کرے لیکن کورین نے اُن سے کہاکہ وہ الزامات عائد کرنے سے پہلے اِس کی نوٹس دیں۔ بی جے پی ارکان بھی مسئلہ اٹھانے میں شامل ہوگئے ۔ انھوں نے کہاکہ یہ بالکل واضح ہے کہ وہ کسی مناسب نوٹس کے بغیر نائب صدرنشین الزامات عائد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ نائب صدرنشین نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ ارکان کے الزامات ریکارڈ سے حذف کردیئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT