Friday , July 20 2018
Home / شہر کی خبریں / لوک سبھا میں تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کا احتجاج

لوک سبھا میں تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کا احتجاج

گورنمنٹ اسپانسر احتجاج ، کھرگے کا ریمارک ، اے پی کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ
نئی دہلی ۔6 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) این ڈی اے کی حلیف تلگودیشم کے علاوہ آندھراپردیش کی ایک اپوزیشن جماعت وائی ایس آر کانگریس کے ارکان کے شوروغل کے سبب لوک سبھا کی کارروائی آج بری طرح متاثر ہوئی اور حکومت نے ان دونوں جماعتوں کے مطالبات کو ’’انتہائی حساس ‘‘ قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ ان مطالبات پر غور کیا جائے گا ۔ ایک دوسرے کی کٹرحریف ان دونوں جماعت کے ارکان کے مسلسل احتجاج کے سبب اواخر دوپہر مختصر وقت میں دو مرتبہ ایوان کی کارروائی ملتوی کرنا پڑا ۔ مرکز میں حکمراں این ڈی اے کی قیادت کرنے والی بی جے پی اور اس کی حلیف تلگودیشم کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔ کیونکہ مواخرالذکر نے مرکزی بجٹ میں آندھراپردیش کیلئے کوئی خصوصی فوائد کی پیشکش نہ کرنے پر برسرعام ناخوشی کا اظہار کیاہے۔ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اپنی ریاست کے لئے خاطر خواہ فنڈس اور پراجکٹ مختص کرنے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ تلگودیشم ارکان پلے کارڈس تھامے ہوئے ایوان کے وسط میں پہونچ گئے۔ ان پلے کارڈس پر ’’ہم انصاف چاہتے ہیں‘‘۔ ’’آندھراپردیش کے درد کو سمجھ ‘‘ ، ’’ہم اے پی اسٹیٹ کیلئے خصوصی موقف چاہتے ہیں‘‘ اور ’’اب ریلوے زون کا اعلان کرو ‘‘ جیسے نعرے درج تھے ۔ لوک سبھا میں آج کی کارروائی کے آغاز کے فوری بعد اسپیکر سمترا مہاجن نے کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھرگے سے صدارتی خطبہ کے جواب میں تحریک تشکر پر خطاب کرنے کیلئے کہا جس کے ساتھ ہی یہ ارکان اسمبلی پلے کارڈس تھامے ہوئے اپنی نشستوں سے اُٹھ گئے ۔ مہاجن نے ان ارکان سے اپنی نشستیں سنبھالنے کی خواہش کی اور کہا کہ یہ طرزعمل درست نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ’’صبح سے میں آپ سے خواہش کررہی ہوں ۔ میں آپ سے درخواست کرچکی ہوں کہ اس رکن کے خطاب میں رخنہ اندازی نہ کیجئے ۔ یہ مناسب نہیں ہے ۔ آپ کسی بھی رکن کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے ۔ کیونکہ وہ خطاب کررہے ہیں ‘‘ ۔ اس دوران کانگریس کے لیڈر جیوترآدتیہ سندھیا نے اپنی نشست سے کہاکہ وزیراعظم ایوان میں بیٹھے ہیں اور اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ریاست ( اے پی) کے خلاف امتیازی سلوک کیا گیا ہے اور وزیراعظم کو اس مسئلہ پر کچھ کہنا چاہئے ۔ کھرگے نے کہاکہ یہ حکومت کا اسپانسر کردہ احتجاج ہے اور احتجاج کرنے والے ارکان کو دوسری جانب کھڑے ہونا چاہئے ۔ تاہم انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ آندھراپردیش کے مطالبات کی یکسوئی کرے۔

TOPPOPULARRECENT