Wednesday , December 19 2018

لوک سبھا میں پھر شوروغل سے عدم اعتماد تحریکیں تعطل کا شکار : اسپیکر

پارلیمانی کارروائی لگاتار 14 ویں روز احتجاج کی نذر

نئی دہلی ، 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمانی کارروائی بجٹ سیشن کے جاریہ دوسرے مرحلے میں آج لگاتار 14 ویں روز خلل کا شکار ہوئی، جس کا سبب اپوزیشن پارٹیوں اور بعض جنوبی ریاستوں سے تعلق رکھنے والوں کا بلاروک ٹوک احتجاج ہے۔ راجیہ سبھا میں اتنی تبدیلی ضرور ہوئی کہ ایوان بالا نے کسی مباحث کے بغیر کلیدی قانون سازی کو منظوری دے دی تاکہ ’گرائجویٹی لا‘ میں ترمیم لائی جاسکے۔ اس کے بعد ایوان کو مختلف مسائل پر کانگریس، ٹی ڈی پی اور آل انڈیا انا ڈی ایم کے کی جانب سے پُرشور احتجاجوں کے باعث دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ جیسا کہ ماضی قریب میں دیکھنے میں آیا، لوک سبھا کو پہلے دوپہر اور پھر دن بھر کیلئے ملتوی کرتے ہوئے اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ وہ ’تحریک عدم اعتماد‘ کو قبول کرتے ہوئے اسے آگے بڑھانے سے قاصر ہیں کیونکہ ایوان میں نظم نہیں ہے۔ ایوان بالا میں صدرنشین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وہ کارروائی کو ملتوی کئے جارہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ عوام ’’خراب مناظر دیکھیں‘‘، جو دراصل مختلف احتجاجی پارٹیوں کے ارکان کی جانب سے ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرے بازی کرنے اور پلے کارڈز لہرانے کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں ایوان کی کارروائی بجٹ سیشن کو آگے بڑھانے کیلئے 5 مارچ کو پارلیمانی اجلاس کا احیاء ہونے کے بعد سے مختلف مسائل پر رکاوٹ و خلل کا شکار ہوتی رہی ہے۔ آج صبح جب ایوان بالا کا اجلاس شروع ہوا، مصرحہ کاغذات پیش کئے گئے اور پھر ٹی ڈی پی ممبر سی ایم رمیش اور انا ڈی ایم کے رکن وی مائترین نے اپنے مطالبات کے بارے میں مختصر بیانات دیئے۔ اس کے بعد چیرمین نائیڈو نے کہا کہ وہ صبح میں مختلف پارٹیوں کے قائدین سے مل چکے ہیں اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایوان کلیدی ’ادائیگی گرائجویٹی (ترمیمی) بل سے نمٹے گا کیونکہ یہ ملازمین کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔ چنانچہ وزیر محنت سنتوش کمار گنگوار نے اس بل کو غوروخوض اور منظوری کیلئے پیش کیا اور یہ قانون سازی مباحث کے بغیر ندائی ووٹ پر منظور کرلی گئی۔ تاہم، ایوان میں معمول کے نظم کی جھلک مختصر ثابت ہوئی کیونکہ جلد ہی ٹی ڈی پی اور انا ڈی ایم کے پارٹی کے ارکان وسط میں پہنچ کر نعرے بازی کرنے لگے۔ ان کے ساتھ بعض کانگریس ممبرز شامل ہوئے۔ مملکتی وزیر پارلیمانی امور وجئے گوئل نے بھی احتجاجی اراکین سے اپنی نشستوں پر واپس ہوجانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام مسائل پر مباحث کیلئے آمادہ ہے۔ جب احتجاجی ارکان پر کرسیٔ صدارت کی اپیلوں کا کچھ اثر نہ ہوا، تو چیرمین نائیڈو نے ایوان کو کارروائی شروع ہونے کے محض 17 منٹ بعد دن بھر کیلئے ملتوی کردیا۔ لوک سبھا کی کارروائی بھی انا ڈی ایم کے اور ٹی آر ایس ممبرز کے پُرشور احتجاجوں کا شکار ہوئی، اور ایوان زیریں کا بھی التوا ہوا۔ چنانچہ یہ ایوان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹسیں قبول کرنے میں پھر ناکام ہوا۔ صبح میں اجلاس کی شروعات کے چند منٹ میں ہی وقفہ سوالات یہی احتجاجوں کی نذر ہوگیا۔ جب ایوان دوبارہ مجتمع ہوا، مصرحہ کاغذات پیش کئے جانے کے فوری بعد احتجاج پھر شروع ہوگئے۔ کانگریس اور بائیں بازو کے ارکان کو سنا گیا کہ وہ اسپیکر سے ایوان کا نظم بحال کرنے کی اپیل کررہے تھے، تاکہ تحریک عدم اعتماد کی نوٹسوں کو قبول کیا جاسکے۔ وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے کہا کہ حکومت تمام مسائل پر مباحث کیلئے تیار ہے۔ انھوں نے احتجاجی ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس ہوجانے کی اپیل بھی کی تاکہ لوک سبھا پُرسکون انداز میں کام کرسکے۔ جب سمترا مہاجن نے عدم اعتماد کی نوٹسوں سے نمٹنا چاہا، احتجاجی انا ڈی ایم کے ممبرز کی تیزی بڑھ گئی۔ سمترا مہاجن نے کہا کہ وہ اپنی نشست سے (ظاہر طور پر انا ڈی ایم کے اور ٹی آر ایس ممبرز کے تھامے پلے کارڈز کے سبب) کچھ بھی نہیں دیکھ پارہی ہیں اور اس لئے 50 ارکان کی گنتی نہیں کرسکتیں جو عدم اعتماد والے اقدام کیلئے درکار شرط ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے و دیگر قائدین کو بار بار اسپیکر سے تحریک کا معاملہ آگے بڑھانے کی اپیل کرتے دیکھا گیا۔ تاہم، اسپیکر نے ایوان کو دن بھر کیلئے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ وہ خلل اندازیوں کے درمیان نوٹسوں کا معاملہ آگے نہیں بڑھا سکتیں۔

TOPPOPULARRECENT