Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / لوک سبھا میں کالا دھن مسئلہ پر کالی چھتریوں کے بعد کالی شالوں کا احتجاج

لوک سبھا میں کالا دھن مسئلہ پر کالی چھتریوں کے بعد کالی شالوں کا احتجاج

نئی دہلی 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کالی چھتریوں کے بعد ترنمول کانگریس کے ارکان نے لوک سبھا میں آج کالے دھن کا مسئلہ اٹھانے کے لئے کالی شالیں استعمال کیں۔ وقفۂ سوالات کا جیسے ہی آغاز ہوا ترنمول کانگریس ارکان کالی شالیںاوڑھے ہوئے ایوان میں داخل ہوگئے۔ انھوں نے اپنی نشستیں سنبھالنے سے پہلے ’’کالا دھن واپس لاؤ‘‘ کے نعرے بلند کئے۔

نئی دہلی 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کالی چھتریوں کے بعد ترنمول کانگریس کے ارکان نے لوک سبھا میں آج کالے دھن کا مسئلہ اٹھانے کے لئے کالی شالیں استعمال کیں۔ وقفۂ سوالات کا جیسے ہی آغاز ہوا ترنمول کانگریس ارکان کالی شالیںاوڑھے ہوئے ایوان میں داخل ہوگئے۔ انھوں نے اپنی نشستیں سنبھالنے سے پہلے ’’کالا دھن واپس لاؤ‘‘ کے نعرے بلند کئے۔ دیگر مواقع کے برعکس انھوں نے ایوان کی کارروائی میں آج کوئی خلل اندازی پیدا نہیں کی۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے لوک سبھا کے اندر نعرے تحریر شدہ چھتریوں کے مظاہرہ پر بے چین اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے کل ترنمول کانگریس ارکان کو انتباہ دیا تھا کہ خاطی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی پر مجبور نہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا تھا کہ خاطی ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی کیلئے کئی دفعات موجود ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم نظریاتی افراد ایوان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کارروائی کرنے کے لئے مجبور نہ کریں۔ ایوان کو کسی کارروائی کے بغیر بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دیں۔ ان کا تبصرہ ترنمول کانگریس ارکان کی جانب سے منگل کے دن حکومت مخالف نعرے تحریر چھتریاں لے کر ایوان کے اجلاس میں شرکت کے بعد منظر عام پر آیا تھا۔ ترنمول کانگریس ارکان بیرون ملک جمع کالا دھن ملک واپس لانے کے اپنے مطالبہ کو اُجاگر کرنے کے لئے یہ انوکھا احتجاج کررہے تھے۔ آج کالا دھن مسئلہ پر ایوان میں بیان دیتے ہوئے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ اسے اس مسئلہ پر کچھ بھی چھپانے یا معذرت خواہی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کالا دھن کانگریس زیرقیادت یو پی اے حکومت کے دوران پیدا کیا گیا تھا۔ تمام ناقدین کو خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے سابق یو پی اے حکومت پر الزام تراشی کی جس کی تائید سماج وادی پارٹی، بائیں بازو کی پارٹیوں اور ترنمول کانگریس نے کی۔ تاہم کہاکہ کالا دھن مسئلہ پر کوئی سخت اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہاکہ معلومات کا خودکار تبادلہ ہمارا اگلا اقدام ہوگا جو عالمی کالا دھن کی تحقیقات کے سلسلہ میں کیا جائے گا۔ ارون جیٹلی نے کہاکہ اس سے کالا دھن کھاتے داروں کے بارے میں مقبول عام موقف اختیار کرنے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے کہاکہ جن افراد کے بیرون ملک کھاتے ہیں ان افراد کو نوٹسیں روانہ کردی گئی ہیں۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 2011 ء میں مشورہ دیا تھا کہ 2014 ء تک تین سال کے اندر ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ کالا دھن مسئلہ سے نمٹنے میں حکومت کی سنجیدگی کا ادعا کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ہماری کابینہ کے پہلے دن کے اجلاس سے ہی کالے دھن کا پتہ چلانے ایس آئی ٹی کی تشکیل ہمارا موضوع ہے۔ G-20 میں وزیراعظم نے یہ مسئلہ بڑے پیمانہ پر اٹھایا تھا کیا یہ کوئی غلطی تھی۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کالا دھن مسئلہ پر مباحث کے لئے تیار ہے جیسا کہ سابق میں تھی۔

TOPPOPULARRECENT