Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / لوگ کالے دھندے چھپانے ‘ گاؤ رکھشا کی آڑ لیتے ہیں

لوگ کالے دھندے چھپانے ‘ گاؤ رکھشا کی آڑ لیتے ہیں

گائے کے تحفظ پر دوکانیں کھولنے والوں پر مجھے غصہ آتا ہے ۔ وزیر اعظم مودی کا پہلا ٹاؤن ہال طرز کا خطاب
نئی دہلی 6 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کے دو سال کی تکمیل کے پیش نظر آج پہلی مرتبہ نئی دہلی کے اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم میں ٹاؤن ہال طرز کا خطاب کیا ۔ اس خطاب میں انہوں نے مختلف مسائل پر اظہار خیال کیا جن میں گاؤ رکھشا کا مسئلہ بھی شامل رہا جو حالیہ عرصہ میں سرخیوں میں رہا ہے۔ مودی نے اپنی تقریر میں خود ساختہ گاؤ رکھشا کارکنوں پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’ کافی لوگ جو گاؤ رکھشک (گائے کے محافظ) ہیں وہ گاؤ رکھشا صرف اپنے کالے دھندے چھپانے کیلئے کرتے ہیں۔ گاؤ رکھشا کے نام پر جو لوگ دوکان کھول کر بیٹھے ہیں مجھے ان پر بڑا غصہ آتا ہے ‘‘ ۔ واضح رہے کہ حالیہ عرصہ میں گاؤ رکھشا کے نام پر تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جس پر سارے ملک میں بے چینی اور برہمی پیدا ہوئی تھی ۔ مودی کے ٹاؤن ہال طرز کے خطاب کا افتتاح وزیرآئی ٹی و مواصلات روی شنکر پرساد نے کیا ۔ مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہت سے لوگ گاؤ رکھشا کے کام میں صرف اپنے کالے دھندوں کو چھپانے کیلئے شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سماج کی خدمت کرنا چاہتے ہیں پہلے انہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ گائے پلاسٹک اور کچرا کھانا بند کردے ۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر گائیں اس لئے مرتی ہیں کیونکہ وہ پلاسٹک بیاگس اور کچرا کھاتی ہیں۔ ان گاو رکھشکوں کو چاہئے کہ وہ عوام سے پلاسٹک اور کچرا نہ پھینکنے کی اپیل کریں۔ یہ سماج کی بڑی خدمت ہوگی ۔

 

اس تقریب میں وزیراعظم نے پی ایم او ایپ PMO App کا بھی افتتاح انجام دیا ۔ نریندر مودی کا یہ پہلا ٹاؤن ہال طرز کا خطاب ہے جس میں انہوں نے جمہوریت اور نگہداشت صحت جیسے مختلف امور پر بھی اظہار خیال کیا ۔ انہوں نے یہاں عوام کے سوالات کے جواب بھی دئے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ شکایتوں کا ازالہ جمہوریت کا لازمی حصہ ہے اور ہر شہری کو چاہئے کہ وہ اپنے مسائل کو اجاگر کرے ۔ اس تقریب میں کابینی وزرا ‘ مختلف وزارتوں و محکمہ جات کے سینئر عہدیداران ‘ سرکاری تنظیموں ‘ میڈیا کے نمائندوں ‘ آئی ٹی و سوشیل میڈیا صنعت کے نمائندوں اور شہریوں نے بھی حصہ لیا ۔ جمہوریت کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریت کو صرف رائے دہی اور ایک حکومت منتخب کرنے تک محدود کردیا جائے تو جمہوریت کا حقیقی جذبہ پروان نہیں چڑھ سکتا ۔ مودی نے معاشی ترقی کے تعلق سے کہا کہ معاشی ترقی کو مستقل ہونا چاہئے ۔ اسے اتار چڑھاؤ کا شکار نہیںہونا چاہئے ۔ ہمیں سر فہرست بننے کیلئے ایسا ہونا ضروری ہے ۔ سیاحت سے ہماری معیشت کو استحکام حاصل ہوگا اور ہم کو چاہئے کہ معیشت کو آگے بڑھانے کوشش کریں۔ اگر ہم 30 سال تک 8 فیصد کی شرح سے ترقی کریں تو ہم اولین مقام حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں انحطاط ہے ۔ دنیا میں قوت خرید گھٹنے کے باوجود ہم نے 7.6 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے ۔ٹاؤن ہال طرز کا خطاب مغربی ممالک میں عام ہے ۔

 

یہ سماج کی بڑی خدمت ہوگی ۔ وزیراعظم مودی نے پہلی بار گاؤ رکھشکوں کو عوامی تقریب میں مذمت کا نشانہ بنایا اور ’’غیرسماجی عناصر‘‘ قرار دیا۔ اس تقریب میں مودی نے پی ایم او ایپ (PMO App )کا آغاز بھی کیا ۔ مودی کا یہ پہلا ٹاؤن ہال طرز کا خطاب ہے جس میں انہوں نے جمہوریت اور نگہداشت صحت جیسے مختلف امور پر بھی اظہار خیال کیا ۔ انہوں نے یہاں عوام کے سوالات کے جواب بھی دئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ شکایتوں کا ازالہ جمہوریت کا لازمی حصہ ہے اور ہر شہری کو چاہئے کہ وہ اپنے مسائل کو اجاگر کرے ۔ اس تقریب میں کابینی وزرا ‘ مختلف وزارتوں و محکمہ جات کے سینئر عہدیداران ‘ سرکاری تنظیموں ‘ میڈیا کے نمائندوں ‘ آئی ٹی و سوشیل میڈیا صنعت کے نمائندوں اور شہریوں نے بھی حصہ لیا ۔ جمہوریت کے تعلق سے مودی نے کہا کہ اگر جمہوریت کو صرف رائے دہی اور حکومت منتخب کرنے تک محدود نہ کیا جائے۔ مودی نے معاشی ترقی کے تعلق سے کہا کہ اسے پُراستقلال ہونا چاہئے ، اُتار چڑھاؤ کا شکار نہیںہونا چاہئے ۔ ہمیں سر فہرست بننے کیلئے ایسا ہونا ضروری ہے ۔ سیاحت سے ہماری معیشت کو استحکام حاصل ہوگا اور ہم کو چاہئے کہ معیشت کو آگے بڑھانے کوشش کریں۔ اگر ہم 30 سال تک 8 فیصد کی شرح سے ترقی کریں تو ہم اولین مقام حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں معاشی انحطاط ہے ۔ دنیا میں قوت خرید گھٹنے کے باوجود ہم نے 7.6 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے ۔ٹاؤن ہال طرز کا خطاب مغربی ممالک میں عام ہے ۔

TOPPOPULARRECENT