Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / لویا کی موت کے بارے میں درخواستیں سنگین

لویا کی موت کے بارے میں درخواستیں سنگین

سپریم کورٹ کا اظہار رائے ، عدالت کی سینئر کارکن قانون داں جئے سنگھ پر برہمی

نئی دہلی 22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج خصوصی سی بی آئی جج ایچ ایچ لویا کی موت کے متعلق درخواستوں میں اُٹھائے ہوئے مسائل کو ’’سنگین‘‘ قرار دیا لیکن سینئر قانون داں کو بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو اِس مقدمے میں نامزد کرنے پر برہمی بھی ظاہر کی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام دستاویزات کا گہرائی سے جائزہ لے گی ان کا تعلق لویا کی موت سے ہے اور سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر مقدمے سے ہے۔ سینئر قانون داں اندرا جئے سنگھ نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا آئندہ حکمنامہ ممکن ہے کہ اِس مقدمے میں ذرائع ابلاغ کو بھی ملوث کرے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت سپریم کورٹ کی بنچ لویا کی 2014 ء میں موت کے بارے میں دو درخواستوں کی جو دیگر دو درخواستوں کے ساتھ جو ناگپور اور ممبئی میں بامبے ہائی کورٹ کی شاخوں پر زیرالتواء ہیں، کی سماعت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کررہی تھی۔ بنچ میں جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ بھی شامل ہیں۔ ملک کی تمام اعلیٰ عدالتوں کو اطلاع دے دی گئی ہے کہ لویا کی موت کے تعلق سے کسی بھی درخواست کو قبول نہ کیا جائے۔ لویا سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر مقدمے کی سماعت کررہے تھے۔ وہ مبینہ طور پر قلب پر حملے کی وجہ سے یکم ڈسمبر کو ناگپور میں انتقال کرگئے تھے جبکہ وہ اپنے ساتھی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے گئے ہوئے تھے۔ بنچ نے تمام فریقین کو ہدایت دی ہے کہ تمام دستاویزات کو جو لویا کی موت کے بارے میں ہیں اور جو اب تک پیش نہیں کی گئی ہیں، ترتیب وار جمع کرکے 2 فروری تک ان کے ملاحظہ کے لئے پیش کی جائیں جو مقدمے کی سماعت کی اگلی تاریخ ہے۔ بنچ نے کہاکہ ہمیں تمام دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔ بنچ اُس وقت برہم ہوگئی جبکہ سینئر ایڈوکیٹ دشینت ڈاوے نے بامبے کے وکلاء کی تنظیم کی پیروی کرتے ہوئے جس نے وہاں کی ہائیکورٹ میں ایک درخواست مفاد عامہ پیش کی ہے۔ صدر بی جے پی امیت شاہ کا دوران سماعت لیا اور الزام عائد کیاکہ ہر چیز اُنھیں (شاہ کو) بتانے کے لئے کی جارہی ہے۔ بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے کے اُٹھائے ہوئے مسئلہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ آج بھی یہ ایک طبعی موت ہیاِس لئے شکوک و شبہات پیدا نہ کریں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا برہم ہوگئے جبکہ سماجی کارکن قانون داں جئے سنگھ نے مداخلت کرتے ہوئے امکانی آئندہ حکمنامے کے بارے میں کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT