Thursday , December 13 2018

لو جہاد: ان کیمرہ کارروائی کیلئے فوری سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

اسلام قبول کرنے والی کیرالا کی خاتون کے والد کی درخواست، چیف جسٹس دیپک مشرا کی بنچ پر 27 نومبر کو سماعت
نئی دہلی۔22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مسلم شخص سے شادی سے قبل اسلام قبول کرنے والی کیرالا کی خاتون کے والد کی درخواست پر فوری سماعت سے آج انکار کردیا۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس خاتون کے ساتھ ہونے والی جرح کیمرہ ریکارڈنگ میں ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم کھانولکر اور ڈی وائی چندر چوڑ پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ وہ اس درخواست کی سماعت از خود 27 نومبر کو اس وقت کرے گا جب خاتون کو جرح کے لیے اس کے سامنے لایا جائے گا۔ خاتون کے والد اشوکن کے ایم کے وکیل نے اپنی درخواست میں فوری سماعت کی خواہش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر قبل ازیں دیئے گئے احکام کو درست نہیں کیا گیا تو یہ معاملہ بے فیض ثابت ہوگا۔ سپریم کورٹ نے 30 اکٹوبر کو ہدایت دی تھی کہ خاتون کو اس کے سامنے 27 نومبر کو پیش کیا جائے تاکہ کھلی عدالت میں اس پر جرح کیا جاسکے۔ اس خاتون کے والد اشوکن نے اس معاملہ پر فرقہ وارانہ طور پر حساس نوعیت کا قرار دیا تھا اور اس کارروائی کو بعض بنیادوں پر ان کیمرہ انجام دینے کی خواہش کی تھی کیوں کہ بعض ریاڈیکلس عناصر اس معاملہ میں سکیوریٹی کو درہم برہم کرتے ہوئے ان کی دختر اور ان کے ارکان خاندان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرسکتے ہیں۔ عدالت عالیہ نے 6 اگست کو کہا تھا کہ وہ ان کیمرہ خاتون سے بات کرے گی اور اس تعلق سے کوئی قطعی فیصلہ کرنے سے قبل وہ خاتون سے تفصیلات حاصل کرے گی۔ عدالت نے بعدازاں اپنے بیان میں ترمیم کی اور حکم دیا کہ ہم اس مسئلہ میں مزید یہ اضافہ کرتے ہیں کہ یہ عدالت اس خاتون سے ان کیمرہ بات چیت نہیں کرے گی بلکہ کھلی عدالت میں اس سے بالمشافہ بات کی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے قبل ازیں یہ بھی احساس ظاہر کیا تھا کہ شادی کے لیے ایک بالغ خاتون کی مرضی معلوم کرنے کی آزادی حاصل ہے اور قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بیمار شخص کسی بھی لحاظ سے شادی کے لیے راضی ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوسکتا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس مسئلہ میں نفسیاتی طور پر اغوا کرلیے جانے کا حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ایک بیمار شخص شادی کے لیے اپنی مرصی ظاہر کرنے کے اہل نہیں ہوسکتا۔ اس نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ کیرالا میں اس طرح کی شادیوں کے لیے منظم طریقہ سے ایک مشنری کام کررہی ہے جو لوگوں کو ذہنی طور پر گمراہ کر انہیں مکمل طور پر اپنی جانب مرغوب کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے 89 کیسس سامنے آئے ہیں۔ این آئی اے نے یہ بھی دعوی کیا کہ اس کیس میں خاتون کو ذہنی طور پر مرعوب کرلیا گیا تھا لہٰذا عدالت اس مسئلہ میں جزوی طور پر والدین کی اتھاریٹی کو اختیار کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اگر وہ بالغ بھی ہو تو والدین کی منظوری ضروری ہے۔ اس خاتون کے والد کے وکیل نے قبل ازیں دعوی کیا تھا کہ شافین جہاں نے جو اس مبینہ شوہر کی خاتون ہے اپنے شخص کو انقلابی بتایا اور ان افراد سے رابطہ رکھا جو آئی ایس آئی ایس کے لیے لوگوں کو بھرتی کرانے کے لیے کام کرتے تھے۔ اب خاتون ایک ہندو ہے جس نے اسلام قبول کیا اور بعدازاں جہاں سے شادی کرلی۔

یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس خاتون کو شام میں دولت اسلامیہ کے مشن کے لیے بھرتی کرلیا گیا ہے اور جہاں کو صرف سہارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جہان نے 20 ستمبر کو سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر درخواست کی تھی کہ وہ اپنے 16 اگست کے مسئلہ کو واپس لے لے جس میں اس نے این آئی اے کو حکم دیا تھا کہ وہ تبدیلی مذہب کے تنازعہ کیس کی تحقیقات کرے اور اس کے ساتھ ایک ہندو خاتون کی شادی کی بھی معلومات کی جانچ کرے۔ کیرالا عدالت کی جانب سے اس کی شادی کالعدم قرار دینے کے بعد وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوا تھا اور کہا تھا کہ کیرالا ہائی کورٹ کا فیصلہ اس ملک میں خاتون کی آزادی کی توہین ہے۔

TOPPOPULARRECENT