Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / لو جہاد اور گھر واپسی مہم کے خلاف کیرالا ہائیکورٹ کا سخت ریمارک

لو جہاد اور گھر واپسی مہم کے خلاف کیرالا ہائیکورٹ کا سخت ریمارک

ترووننتاپورم ۔ /19 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کیرالا ہائیکورٹ ڈیویژن بنچ نے مختلف مذہبی گروپس کی ’’لو جہاد‘‘ مہم پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ ہر بین مذہبی شادی کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دیا جانا چاہئیے ۔ بنچ نے کرنول سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ انیس احمد کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ان کی اہلیہ شروتی ملیدت کو ارکان خاندان کی تحویل سے رہا کرنے کا حکم دیا ۔ بنچ نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے بین مذاہب شادیوں کے بارے میں افسوسناک خبریں مل رہی ہیں ۔ انہیں تشدد کی دھمکیاں دی جارہی ہیں یا پھر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ہماری رائے میں اس طرح کا تشدد یا ہراسانی غیرقانونی ہے اور جو بھی اس کا ارتکاب کریں انہیں سخت سزا ملنی چاہئیے ۔ امریکی شہری حقوق کے کارکن اور شادی میاانجیلو کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ عدالت نے شروتی کو حمید کے ساتھ رہنے کا حکم دیا اور شروتی کے والدین اور عیسائی گروپ کی جانب سے چلائی جارہی ہیلپ لائن کی درخواستوں کو مسترد کردیا ۔بنچ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جو رجحان دیکھا جارہا ہے جہاں بین مذاہب شادی کے ہر معاملے کو لو جہاد یا پھر گھر واپسی کا نام دیتے ہوئے سنسنی پیدا کی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT