Thursday , December 13 2018

لو جہاد تنازعہ : لڑکی کے والدین پر مقدمہ

میرٹھ ۔ 14 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) 22 سالہ لڑکی کے والدین کے خلاف ایک مقدمہ قتل کی دھمکیاں دینے اور زدوکوب کرنے کے سلسلے میں درج کرلیا گیا ہے کیونکہ لڑکی نے اجتماعی عصمت ریزی اور جبری تبدیلی مذہب کے الزامات سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ لڑکی نے دو دن قبل دعویٰ کیا تھا کہ اسے اپنے والدین سے جان کا خطرہ ہے۔ پولیس نے ایک مقدمہ دفعہ 506 (مجرمان

میرٹھ ۔ 14 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) 22 سالہ لڑکی کے والدین کے خلاف ایک مقدمہ قتل کی دھمکیاں دینے اور زدوکوب کرنے کے سلسلے میں درج کرلیا گیا ہے کیونکہ لڑکی نے اجتماعی عصمت ریزی اور جبری تبدیلی مذہب کے الزامات سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ لڑکی نے دو دن قبل دعویٰ کیا تھا کہ اسے اپنے والدین سے جان کا خطرہ ہے۔ پولیس نے ایک مقدمہ دفعہ 506 (مجرمانہ دھمکیاں) قانون تعزیرات ہند کے تحت والدین کے خلاف درج کرلیا۔ ایس ایس پی میرٹھ اومکار سنگھ نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے۔ تحقیقات کا آغاز عدالت کے حکم پر ہی کیا جاسکتا ہے جبکہ عدالت میں لڑکی کا بیان درج کیا جائے گا۔ لڑکی نے اتوار کے دن مہیلا پولیس اسٹیشن میں والدین کے خلاف شکایت درج کرواتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے کلیم کے ساتھ گھر سے فرار ہوگئی تھی کیونکہ اس کو اپنی جان کا خطرہ تھا اور اسے زدوکوب کیا گیا تھا۔ قبل ازیں 3 اگست کو اس نے شکایت درج کروائی تھی اور اپنے اغوا اور اجتماعی عصمت ریزی اور زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔ لڑکی کے والد نے اگست میں کھار کھوڑا پولیس اسٹیشن میں گاؤں کے پردھان نواب خاں، عالم دین ثناء اللہ اور اس کی بیوی اور بیٹی نشانت پر اغوا اور عصمت ریزی کے الزامات عائد کئے تھے، تاہم لڑکی نے خواتین پولیس اسٹیشن سے اتوار کے دن ربط پیدا کیا اور کہا کہ اسے اپنے والدین سے جان کا خطرہ ہے۔ ایس پی (دیہی) کیپٹن ایم ایس بیگ نے کہا کہ شکایت کے بموجب لڑکی کے خاندان نے اسے جھوٹی شکایت درج کروانے پر مجبور کیا تھا اور اس کے اعتراض پر اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے فرار ہوگئی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے فرار ہوئی تھی کیونکہ اسے اپنی زندگی کا خطرہ تھا۔ اس نے مجسٹریٹ کے سامنے فوجداری ضابطہ کی دفعہ 164 کے تحت اپنے بیان درج کروایا تھا لیکن لڑکی کے والد نے اس ادعا کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے اپنے سابقہ بیان سے دستبردار ہونے کیلئے ایک شخص صدام نے دھمکیاں دی ہیں اور اسے زبردستی اتوار کی صبح خواتین پولیس اسٹیشن لے گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT