Wednesday , December 19 2018

لڑائی بند کردینے یوکرین کی حکومت اور باغیوں پر عالمی دباؤ

کیف 4 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) عالمی قائدین نے آج اس بات پر زور دیا کہ وہ یوکرین کی حکومت اورموافق روس تخرب کاروں پر زور دینگے کہ وہ گذشتہ تین ماہ سے جاری لڑائی کو ختم کردیں ۔ اس لڑائی کے نتیجہ میں مشرق ۔ مغرب تعلقات میں مزید ابترید پیدا ہوگئی ہے ۔ معاشی طور پر اہمیت کے حامل سرحدی صنعتی علاقہ لوگانسک اور لاونیٹسک میں جھڑپوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے کیونکہ یوکرین کے صدر پیٹرو پورو شینکو نے گذشتہ دس سے جاری یکطرفہ جنگ بندی کو ختم کردیا گیا ہے کیونکہ ان کے بموجب جنگ بندی کے باوجود باغیوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ پوروشینکو کے فیصلے کے فوری بعد سرکاری افواج کی جانب سے بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز ہوگیا تھا اور صدر روس ولادیمیر پوٹین نے خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین میں اپنے ہم وطنوں کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ ڈونیٹسک میں مقامی حکام نے کہا کہ مشرقی شہر میں قریب ایک ملین افراد مسلسل ہونے والے دھماکوں اور لڑائی کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ لوگانسک کے باغیوں کے طاقتور علاقہ میں مقامی کونسل نے کہا کہ شلباری کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ دوسرے زخمی ہوئے ہیں۔ یوکرین کی فوج نے کہا کہ لڑائی میں اس کا ایک اہلکار باغیوں کے حملوں میں ہلاک ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باغیوں کی جانب سے لوگانسک میں فضائی پٹیوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ یوکرین افواج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ 150 موافق روس بندوق برداروں کو فوجی کارروائی میں ختم کردیا گیا ہے ۔ تاہم اس ادعا کی آزادانہ طور پر کوئی توثیق نہیں ہوسکی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اب تک اس علاقہ میں ہونے والی لڑائی میں جملہ 460 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان ہلاکتوں کی پاداش میں روس پر معاشی تحدیدات عائد کی جاسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT