Monday , September 24 2018
Home / جرائم و حادثات / لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کو80فیصدخاطی غلط نہیںبلکہ عام بات سمجھتے ہیں

لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کو80فیصدخاطی غلط نہیںبلکہ عام بات سمجھتے ہیں

حیدرآباد۔20اپریل ( پی ٹی آئی) سائبرآباد کمشنریٹ کے حدود میں لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ’’ شی ٹیمس‘‘ کی طرف سے پکڑے جانے والے 80فیصد خاطی نوجوان خواتین سے چھیڑ چھاڑ کو غلط نہیں سمجھتے !۔ سائبرآباد کمشنریٹ سے آج جاری ایک اعلامیہ کے مطابق ایسے نوجوان اور افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے معاشرہ میں یہ ( لڑکیوں/ خواتین سے چھڑ چھاڑ) قابل ق

حیدرآباد۔20اپریل ( پی ٹی آئی) سائبرآباد کمشنریٹ کے حدود میں لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ’’ شی ٹیمس‘‘ کی طرف سے پکڑے جانے والے 80فیصد خاطی نوجوان خواتین سے چھیڑ چھاڑ کو غلط نہیں سمجھتے !۔ سائبرآباد کمشنریٹ سے آج جاری ایک اعلامیہ کے مطابق ایسے نوجوان اور افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے معاشرہ میں یہ ( لڑکیوں/ خواتین سے چھڑ چھاڑ) قابل قبول ہے ۔ عام مقامات پر لڑکیوں اور خواتین سے چھیڑ چھاڑ کو رکنے کیلئے تین ماہ قبل تشکیل شدہ ’’ شی ٹیمس‘‘ نے ایسے واقعات میں ملوث تاحال 250 افراد کو پکڑ کر ان کی اصلاح کیلئے کونسلنگ کی ۔ گذشتہ ہفتہ مختلف عمروں کے 36 افراد کو پکڑ کر ان کے خلاف 27مقدمات درج کئے گئے ۔ سائبرآباد پولیس کمشنر سی وی آنند نے لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ و ہراسانی کے واقعات کے انسداد کیلئے شی ٹیمس کی کارکردگی کا جائزہ لیا ۔ انہں نے جائزہ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر راما راجیشوری ( انچارج شی ٹیمس) کو ہدایت کی کہ وہ خواتین کے خلاف جرائم کے شعبہ کو مزید موثر بناتے ہوئے کونسلنگکو ثمر آور بنائیں ۔ کونسلنگ کے ایک حصہ کے طور پر خاطیوں کو اب ایک سوالنامہ دیا جائے گا تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ آیا وہ لڑکیوں سے آخر کس لئے چھیڑ چھاڑ کیا کرتے ہیں ۔ ان کے جرم کی نوعیت اور خواتین کے تئیں ان کی نفسیات معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ اکثر خاطیوں کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ مشترکہ خاندانوں کے بجائے صرف ماں باپ اور بھائی بہنوں پر مشتمل علحدہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور پس منظر کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ والدین بھی ان کی سرگرمیوں پر زیادہ نظر نہیں رکھتے ‘ جو ان کے اس رویہ اور طرز کی اہم وجہ ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا ’’ اگر آپ کی ماں ‘ بہن یا بیوی سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا ۔ نصف سے زیادہ خاطیوں نے اعتراف کیا کہ یقیناً وہ غصہ کریں گے لیکن یہ بھی کہا کہ آزادی کے ساتھ گھومتے ہوئے اور خود کو غیر محفوظ بنانے کیلئے لڑکیاں اور خواتین بھی ایسے واقعات کیلئے مساویانہ طور پر ذمہ دار ہیں ۔ تقریباً 20فیصد خاطیوں نے لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ پر ندامت و شرمندگی کا اظہار کیا اور اس مسئلہ پر شعور بیداری کیلئے شی ٹیمس کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی ۔دوران تفتیش سب سے اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ خواتین سے چھیڑ چھاڑ یا دست درازی کو بے پناہ جنسی خواہش سے کہیں زیادہ تشدد کا واقعہ قرار دیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT