Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / لڑکیوں نے ہندوستان کی بچائی عزت

لڑکیوں نے ہندوستان کی بچائی عزت

ظفر آغا
حیدرآباد کی رانی اور ہندوستانیوں کے دلوں کی مہارانی پی وی سندھو کو ہم سب کا سلام۔ اس کمسن لڑکی نے ریو اولمپکس گیمز میں وہ کردکھایا جو کم از کم اس بار کوئی مرد بھی نہ کرسکا۔ بیڈمنٹن اولمپکس ویمن مقابلہ میں سندھو وہ پہلی لڑکی ہے جس نے سلور میڈل جیتا اور اس طرح ہندوستانی کھیلوں کی تاریخ میں اپنا نام روشن کردیا۔ سندھو جب ریو میں کھیل رہی تھیں تو کروڑہا ہندوستانی ٹی وی کے سامنے بیٹھے اس کی کامیابی کی دعائیں کررہے تھے، اور واقعی 22برس کی یہ کمسن لڑکی کیا خوب کھیل رہی تھی۔ پانچ فٹ دس انچ سے زیادہ لمبی سندھو پورے کورٹ پر چھائی ہوئی تھیں۔ سندھو کے چہرے پر کافی اطمینان اور آنکھوں میں قیامت کا عزم اور کھیل میں زبردست مہارت سے لگتا تھا کہ سندھو ریکارڈ قائم کرکے گولڈ میڈل حاصل کرکے ہی رہے گی۔ لیکن افسوس کہ اس کا مقابلہ بھی کسی کمتر کھلاڑی سے نہ تھا، اس کے سامنے دنیا کی نمبر ون ویمن بیڈ منٹن اسپین کھلاڑی کیرولینا میرن تھیں۔ سندھو کے مقابلہ پستہ قد اور نازک مگر بیڈ منٹن کی یہ ماہر کھلاڑی بھی اپنے فن میں نہ صرف یکتا بلکہ سندھو سے زیادہ تجربہ کار تھیں۔ اس کے باوجود سندھو نے میرن کو پہلامیچ ہرادیا۔ پھر اس کے بعد دو سیٹ میں سندھو اور کیرولینا کا زبردست مقابلہ ہوا جس میں سندھو نے اپنی حریف کو زبردست ٹکر دی لیکن کیرولینا کامیاب ہوئی اور گولڈ میڈل اس کے حصہ میں آیا۔ لیکن سندھو نے سلور میڈل لے کر تاریخ رقم کردی اور کروڑہا ہندوستانیوں کا دل جیت لیا۔

سچ تو یہ ہے کہ ایک 22سالہ لڑکی نے ہندوستان کی لاج  رکھ لی ، یہی نہیں اس سے دو روز قبل ہریانہ کی ایک اور لڑکی ساکشی ملک نے کشتی میں ایک کانسہ تمغہ جیت کر ریو اولمپک میں پہلی کامیابی دلوائی تھی۔ یہی نہیں بلکہ جمناسٹک مقابلہ میں دیپا نام کی ایک اور لڑکی نے چوتھا مقام حاصل کرکے پہلی بار ہندوستان کو اس کھیل میں اس بلندی تک پہنچایا۔ دراصل ریو اولمپک کو ہندوستانی لڑکیوں کا اولمپک کہا جائے گا۔ سندھو اور ساکشی جیسی کمسن لڑکیوں نے ہی ہندوستان کو کچھ میڈل دلوائے ورنہ لڑکے تو ہر کھیل میں محض ہار کا میڈل ہی جیت پائے۔ خدا بھلا کرے سندھو کا جس نے ہندوستان کے نام اتنی بڑی جیت رقم کروادی کہ ہندوستان کی ناک بچ گئی۔ اگر سندھو نہ ہوتی تو ہم تو ڈوب ہی گئے ہوتے۔

سچ یہ ہے کہ اس اکیسویں صدی میں ہماری لڑکیوں نے ایک نئی انگڑائی لی ہے۔ وہ ثانیہ مرزا ہوں یا سندھو دونوں حیدرآباد کا نام روشن کررہی ہیں یا پھر فلم انڈسٹری کی ہیروئن جو بالی ووڈ میں اپنا نام روشن کررہی ہیں، یہ سبھی لڑکیاں اپنے نئے عزم کے ساتھ ہندوستان کو عالمی شہرت دلوارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان نے اب تک اپنی ویمن پاور کی طرف دھیان ہی نہیں دیا ۔ ہمارے ذہنوں میں عورت کے بارے میں وہی روایتی صنف نازک کا تصور آج بھی نقش ہے۔ بے شک عورت کا تعلق صنف نازک سے ہے لیکن عورت میں جو جذبہ ایثار اور لگن پائی جاتی ہے اس کا مقابلہ مرد نہیں کرسکتے، یہ وہ خوبیاں ہیں جن کا استعمال اب تک محض گھر کی چہار دیواری میں رہ کر ہندوستانی عورت اپنے خاندان کی پرورش کے لئے کررہی تھی لیکن پچھلے کچھ برسوں میں ہندوستانی عورت کو یہ احساس ہوا کہ گھر کے باہر بھی ایک زندگی ہے اور مَردوں کی طرح اسے بھی اس زندگی میں بھی بھرپور حصہ لینا چاہیئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب پہلی بار ہندوستان میں ایسا ہورہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی چیرمین ایک عورت ہے اور دو تین بڑی کمپنیوں کی سربراہ بھی عورتیں ہی ہیں۔

ایک دور تھا کہ ہندوستانی عورت ٹیچر یا پھر زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر بن کر خوش ہوجاتی تھی لیکن اب یہ عالم ہے کہ ہندوستانی عورت ہوائی جہاز کی پائلٹ بن کر ہواؤں میں پرواز کررہی ہے، وہ ہندوستانی فوج میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل کررہی ہے۔ صدر امریکہ اوباما جب ہندوستان آئے تو ان کوگارڈ آف آنر پیش کرنے والی فوجی ایک عورت تھی۔ فلمی دنیا میں عورتوں کی اداکاری نے تو ہمیشہ سے ہی اپنی دھاک مچا رکھی تھی اور اب ثانیہ مرزا اور سندھو جیسی لڑکیوں نے عالمی سطح پر کھیل کے میدان میں اپنی دھاک جماکر ہندوستانی عورتوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ عورت سب کچھ کرسکتی ہے جو مرد کرسکتا ہے بلکہ قدرت نے عورت کو مرد پر سبقت دی ہے کہ عورت بچہ پیدا کرسکتی ہے اور اس طرح حیات کی اس دنیا میں وہی ضامن ہے مرد نہیں۔ یہ کمال مرد کو نہیں قدرت نے عورت کو عطا کیا ہے۔

افسوس کہ صدیوں سے بلکہ انسانی تاریخ کے اولین دور سے ہی مرد کو اپنی طاقت پر کچھ ایسا ناز رہا ہے کہ اس نے عورت کو ہمیشہ کمزور سمجھ کر گھر کی چہار دیواری میں قید کردیا، اس کو صنف نازک بنادیا ، اس کی قسمت میں بچے پیدا کرنا اور بچوں کی پرورش کرنا رقم کردیا۔ قدرت نے عور ت کو جواعلیٰ صلاحیتیں عطا کی تھیںعورت کا روایتی تصور اس کے منافی تھا۔ بے شک عورت بیوی،بہن اور ماں ہوتی ہے لیکن وہ محض یہی نہیں ہے۔ خدا نے جیسے مرد کو بیٹا، بھائی ، باپ اور شوہر کے ساتھ نہ جانے کتنی صلاحیتیں دی ہیں ویسے ہی عورت کو قدرت نے بیٹی، بہن اور ماں کے علاوہ بھی نہ جانے کتنی صلاحیتیں دی ہیں۔ انسانیت کو اس بات کا سب سے پہلے احساس رسول کریمؐ نے اسلام کے پیغام کے ذریعہ دیا۔

لب لباب یہ ہے کہ آزادی نسواں کا وہ تصور جو اکیسویں صدی کا ہندوستان اب حاصل کررہا ہے وہ تصور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کو دیا۔ دراصل اسلام محض ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان سماجی انقلاب ہے جس نے عورت اور مرد کو زبردست آزادی حاصل کروائی ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ مسلمان نے اسلام کو محض ایک عقیدہ بناکر فتنوں کی دنیا میں قید کردیا اور اس کا سماجی پیغام کم و بیش ختم ہوگیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج مسلم عورت میدان جنگ میں جانے کے بجائے گھروں میں قید ہیں جبکہ دوسری قومیں اب آزادی نسواں کا سبق لے کر سندھو جیسی ہونہار لڑکیاں پیدا کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT