Sunday , April 22 2018
Home / ہندوستان / لڑکیوں کا اغوا اور زبردستی شادی کا رواج

لڑکیوں کا اغوا اور زبردستی شادی کا رواج

ایک سال میں 3,400 واقعات میں بندوق کی نوک پر شادی، بہار پولیس کا بیان
پٹیالہ۔5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) کئی افراد کے لیے ممکن ہے کہ یہ ایک تہذیبی صدمہ ہو لیکن 3400 سے زیادہ نوجوانوں کا اغوا کرلیا گیا تاکہ ان کی زبردستی شادی کروائی جاسکے جس کو بہار میں ’’پکڑوا وواہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار سے گزشتہ سال کے اس واقعہ کا انکشاف ہوا ہے۔ پکڑوا وواہ بہار میں عام ہے۔ تقریباً 3405 نوجوانوں کا زبردستی شادی کے لیے ریاست گیر سطح پر اغوا کیا گیا۔ بیشتر مختلف ذاتوں کے ساتھ پکڑوا وواہ بندوق کی نوک پر یا ان کے خاندانوں کی جانب سے دھمکیوں کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ ایک پولیس عہدیدار نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ پکڑوا وواہ ایک دیہات میں ایک انجینئر کا کروایا گیا۔ جب اس نے مندوق کی نوک پر زبردستی شادی کرنے کے بعد اپنی نوبہاتہ بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کردیا گیا تو دیہات پترا میں جس کی بے سر کی نعش پائی گئی۔ یہ خبر اخبارات کی شہ سرخیوں میں آچکی ہے۔ معلومات کے بموجب تقریباً 3070 نوجوانوں کا ریاست گیر سطح پر 2016ء میں پکڑوا وواہ کے لیے اغوا کیا گیا۔ 2015ء میں یہ تعداد 3000 اور 2014 میں 2526 تھی۔ ایسے تمام واقعات میں نوجوانوں کے علاوہ ان کے والدین کو بندوق کی نوک پر پکڑوا وواہ کے لیے مجبور کیا گیا۔ پولیس عہدیداروں کے بموجب پولیس کے ریکارڈس کے بجوجب اوسطاً 9 پکڑوا وواہ روزانہ ریاست کے مختلف مقامات پر کروائے جاتے ہیں اس تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پکڑوا وواہ کے اعداد و شمار کے پیش نظر ریاستی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام ضلع سپرنٹنڈنٹس آف پولیس چوکس رہیں اور ایسے واقعات پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ آئندہ شادیوں کے سیزن میں جسے ’’لگن‘‘ کہا جاتا ہے۔ جاریہ ماہ اس کا آغاز ہورہا ہے۔ انسانی حقوق کے ایک کارکن مہیندر یادو نے جو غذائی خلت سے دوچار کوشی علاقہ میں جو شمالی بہار میں واقع ہے، کام کرنے والے سماجی کارکن نے کہا کہ پکڑوا وواہ کے لیے اغوا کی وارداتیں ریاست میں غیر معمولی نہیں ہیں۔ اس کی اطلاع برسوں سے مل رہی ہے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس تعداد میں اب اصافہ ہوتا جارہا ہے۔ پکڑوا وواہ بہار میں ایک سماجی مسئلہ ہے جس کی وجہ جہیز کے لیے مطالبات ہیں۔ جن لڑکیوں کے خاندان مناسب نوجوانوں کا زبردستی شادی کے لیے اغوا کرتے ہیں۔ عام طور پر دوستوں اور رشتہ داروں کا اغوا کرواتے ہیں۔ بعض خاندان آدی مجرم ہیں جو یہ اغوا کی وارداتیں شادیوں کے لیے انجام دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ قومی جرائم کے ریکارڈ بیورو کی رپورٹ برائے 2015ء کے بموجب حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے بموجب توثیق ہوتی ہے کہ بہار میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لڑکوں کا اغوا عام بات ہے۔ بہار میں 18 تا 30 سال عمر کے زمرے کے 1096 نوجوان لڑکوں کا اغوا ہوا تھا۔ ریاست میں اس زمرے میں قومی سطح پر پورے ملک کی جملہ وارداتوں کا 17 فیصد ریاست بہار میں ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT