لڑکی کی پیدائش پر سب سے زیادہ افسوس عورت ہی کرتی ہے

ہندوستانی معاشرہ میں عورت کے مقام و مرتبہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ضروری : شبانہ اعظمی

ہندوستانی معاشرہ میں عورت کے مقام و مرتبہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ضروری : شبانہ اعظمی
حیدرآباد ۔ 3 ۔ مارچ : ( محمد مبشر الدین خرم ) : ہندوستانی معاشرے میں عورت کے مقام و مرتبہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ضروری ہے چونکہ جب تک معاشرہ عورت کی عظمت و عفت کو نہیں سمجھے گا ۔ اس وقت تک خواتین پر مظالم کے واقعات کا تدارک ممکن نہیں ہے ۔ محترمہ شبانہ اعظمی نے سیاست سے خصوصی بات چیت کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ عورت ہی لڑکی کی پیدائش پر افسوس کا اظہار کرتی ہے ۔ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اس سوچ کی بنیادی وجہ صنف نازک کو مرد کے مقابلہ میں کمزور سمجھا جاتا ہے جب کہ حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ عورت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں وہ مرد کے شانہ بشانہ چل سکتی ہے ۔ شبانہ اعظمی نے بتایا کہ ہندوستان ایک بین مذہبی ، بین لسانی و بین تہذیبی ملک ہے اس کے باوجود عورت کے متعلق نظریہ میں یکسانیت پائی جاتی ہے ۔ اس ملک میں عورتوں نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا اور ملک کے جلیل القدر عہدوں پر فائز رہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ صنف نازک صدر جمہوریہ و وزارت عظمیٰ کی باگ ڈور سنبھال چکی ہیں اور فی الحال اسپیکر کے ذمہ دارانہ کردار کو عورت نبھا رہی ہے ۔ انہوں نے سماج میں عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے ذہنوں کی تبدیلی اور معاشرتی انقلاب کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ جب تک ہم لڑکیوں کو دفاتر ، تعلیم ، ملازمت کے علاوہ دیگر مقامات پر یکساں مواقع فراہم نہیں کرتے اس وقت تک اس تبدیلی کو محسوس نہیں کیا جاسکتا ۔ محترمہ شبانہ اعظمی نے مجواں ویلفیر سوسائٹی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انکے والد کیفی اعظمی کی جانب سے شروع کردہ اس تنظیم کی جانب سے تعلیم نسواں کا آغاز کیا گیا تھا اور آج اس تنظیم کو وہ چلا رہی ہیں ۔ اور اس علاقہ میں وہ اس بات کو محسوس کرنے لگی ہیں کہ لڑکیاں نہ صرف خود مکتفی ہورہی ہیں بلکہ اس دیہی علاقہ میں جو کم عمری میں شادی بیاہ ہوا کرتے تھے اس میں خاطر خواہ کمی ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ اسی لیے سب سے پہلے لڑکی کو تعلیم یافتہ بنایا جائے تاکہ وہ معاشرے کو سمجھے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس سوچ کو بھی تبدیلی ہوتے دیکھا جارہاہے کہ لوگ اب اپنی لڑکیوں کو بوجھ نہیں سمجھتے لیکن آج بھی ایسے کئی علاقہ و خاندان ہیں جہاں ایسا سمجھا جاتا ہے ۔ شبانہ اعظمی نے کہا کہ ایسا سوچنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس لڑکی کی آئندہ نسل کے متعلق سوچیں کیوں کہ جب یہی لڑکی نئی نسل کی معمار ثابت ہوگی تو وہ اپنی نسلوں کو کیا تعلیم دے گی ؟ انہوں نے لڑکیوں کو تعلیمیافتہ بنانے اور انہیں نسلوں کی تیاری کی ذمہ داری سونپنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم بہتر و درخشاں مستقبل کی خواہش کرتے ہیں تو ہمیں مستقبل کی معمار لڑکیوں کی بہتر تعلیم و تربیت پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ شبانہ اعظمی نے ملک کے سیاسی حالات کے متعلق کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک کے سیکولر ڈھانچہ پر مکمل یقین ہے چونکہ اس ملک کے دستور میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور انہیں حقوق فراہم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس ملک میں سیاسی رنجشیں عام آدمی کے ذہن کو پراگندہ نہیں کرسکتیں چونکہ عام آدمی اس ملک میں آج بھی سیکولر ہے ۔ اور اس کی سیکولر ذہنیت کے باعث ملک میں سیکولرازم برقرار ہے اور رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ منافرت پھیلا رہے ہیں ۔ اس کا سیکولر قوتیں بہتر انداز میں مقابلہ کررہی ہیں ۔ شبانہ اعظمی نے کہا کہ ہندوستان میں مذہبی منافرت کی سیاست طویل مدت تک نہیں چل سکتی ۔ ہندوستان میں اقتدار کے حصول کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا لازمی ہے چونکہ کسی بھی طبقہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا خواتین کی ترقی کو یقینی بنانے کے علاوہ ان کے تحفظ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے لڑکیوں و خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی قوت و طاقت کے علاوہ صلاحیتوں کو بہتر معاشرے کی تشکیل و خواتین کی ترقی کے لیے استعمال کریں تاکہ دنیا اس بات کو تسلیم کرسکے ۔ شبانہ اعظمی نے فلمی دنیا کے معاشرتی اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلموں کے ذریعہ معاشرے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ لیکن کمرشیل اور آرٹ فلموں میں بہت زیادہ فرق ہوتاہے ۔ انہوں نے ہندوستان میں تھیٹر و اسٹیج شو کے مستقبل کو خطرات کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تھیٹر ، ڈرامہ اور اسٹیج شو تیار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT