Sunday , November 19 2017
Home / جرائم و حادثات / لڑکی کے جنسی استحصال اور اسقاط حمل کا ملزم گرفتار ، دوسرا مفرور

لڑکی کے جنسی استحصال اور اسقاط حمل کا ملزم گرفتار ، دوسرا مفرور

لڑکی اور بہن سے دوستی ، قابل اعتراض ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کی دھمکی
حیدرآباد۔ 21 ۔ مارچ ( سیاست نیوز) بہادر پورہ پولیس نے لڑکی کو بلیک میل کرتے ہوئے اس کا جنسی استحصال کرنے اور اسقاط حمل کروانے پر مجبور کرنے والے ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ 23 سالہ ذیشان احمد ساکن ہدیٰ کالونی عطا پور راجندر نگر نے 20 سالہ لڑکی کو اپنی حوس کا شکار بناتے ہوئے اسے گزشتہ تین سال سے جنسی استحصال کر رہا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی عابڈس میں واقع ایک کالج میں سال 2012 ء میں  بی ایس سی کی تعلیم حاصل کر رہی تھی جہاں پر اس کے ساتھی طالب علم ذیشان احمد اور سید عادل سے دوستی ہوئی۔ ذیشان احمد متاثرہ لڑکی کی چھوٹی بہن کا بھی دوست تھا اور اس دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے لڑکی کو یہ ظاہر کیا کہ اگر وہ اس کا کہنا نہ مانے تو وہ اس کی بہن کے قابل اعتراض ویڈیوز سوشیل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ پر عام کردے گا۔ بلیک میلنگ کا شکار  لڑکی کو ذیشان احمد نے دھمکاکر سال 2012 ء میں اپنے مکان واقع کشن باغ بہادر پورہ لے جایا کرتا تھا جہاں پر اس نے 6 ماہ تک اس کا جنسی استحصال کرتا رہا اور اس بات کا علم ہونے پر اسی کالج کا ایک اور طالب علم سید عادل نے بھی متاثرہ لڑکی کو بلیک میل کرتے ہوئے ذیشان احمد اور اس کے درمیان تعلقات کے بارے میں اس کے افراد خاندان کو بتانے کی دھمکی دی۔ سید عادل نے بھی لڑکی کو بلیک کرتے ہوئے ایک کرایہ کا مکان واقع بہادر پورہ کشن میں تین ماہ تک جنسی استحصال کیا جس کے نتیجہ میں وہ حاملہ ہوگئی۔ عادل نے لڑکی کو دھمکاکر اسے جبراً تیگل کنٹہ میں واقع ذینت ہاسپٹل لیجاکر وہاں پر اسقاط حمل کروایا۔ متاثرہ لڑکی نے اور کالج میں بی ٹیک کی تعلیم کیلئے داخلہ لیا جہاں پر ذیشان احمد نے اسے دوبارہ بلیک میل کرنا شروع کردیا اور وہ فیس بک کے ذریعہ اسے دھمکاتے ہوئے انتباہ دیا۔ اتنا ہی نہیں  ذیشان احمد نے متاثرہ لڑکی پر  سید عادل کے خلاف اسقاط حمل کروانے پر  پولیس میں شکایت کیلئے دباؤ ڈال رہا تھا ۔ ذیشان احمد کے مسلسل بلیک میلنگ اور جنسی استحصال سے تنگ آکر لڑکی نے اپنے والدین کی مدد سے عابڈس پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی جہاں پر ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے بہادر پولیس کو اس کیس کی فائل حوالہ کردی۔ پولیس نے بتایا کہ سال 2012 ء سے ذیشان احمد اور سید عادل اس لڑکی کا جنسی استحصال کر رہے تھے اور اس سے رقومات بھی حاصل کی تھی ۔ پولیس نے گرفتار ذیشان احمد کو جیل منتقل کردیا جبکہ سید عادل اور زینت ہاسپٹل کے ڈاکٹرس جنہوں نے  غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کیا تھا،  کی پولیس کو تلاش ہے۔

TOPPOPULARRECENT