Tuesday , July 17 2018
Home / Top Stories / لکھنو میں احتجاج پر روک لگائیں ، حکومت کو ہائیکورٹ کی ہدایت

لکھنو میں احتجاج پر روک لگائیں ، حکومت کو ہائیکورٹ کی ہدایت

NEW DELHI, APR 4 (UNI):- Muslim women holding silent protest against proposed Muslim Women Marriage Protecton Bill 2017, in New Delhi on Wednesday. UNI PHOTO-DK11U

حکومتی پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج شہریوں کا حق مگر نقص امن کی گنجائش نہیں ۔ غازی آباد میں تشدد پر 5,000 افراد ماخوذ

لکھنو ۔ 4اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) دارالحکومت شہر میں احتجاجوں کے انعقاد اور اُس سے عوام کو ہونیو الے مسائل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے الہٰ آباد ہائیکورٹ نے اُترپردیش کے چیف سکریٹری ، پرنسپل سکریٹری برائے اُمور داخلہ اور ڈی جی پی کو ہدایت دی ہے کہ اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں اُسے 10 اپریل کو واقف کروائیں۔ عدالت نے ریاست کے سرکردہ عہدیداروں کو بھی ہدایت دی کہ شہر کے مضافات میں احتجاجوں کیلئے متبادل مقام کی نشاندہی کریں اور اُسے اس طرح کے احتجاج لکھنو کے قلبی علاقے اور شاہراہوں پر منعقد کرنے کے بارے میں ممکنہ ٹھوس اقدامات کے تعلق سے مطلع کریں۔ عدالت نے دریافت کیا کہ احتجاجیوں کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں ، جو عام لوگوں کو اپنے احتجاجوں کے ذریعہ عملاً یرغمال بنالیتے ہیں۔ شہر کے علاقوں میں عوامی احتجاجوں اور ہڑتالوں پر امتناع عائد کردینے کا حکومتی حکام کو اشارہ دیتے ہوئے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس عبدالمعین کی بنچ نے احتجاجیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں حکومت کی لاپرواہی کا سخت نوٹ لیا۔

ایک نیوز رپورٹ کا ازخود نوٹ لیتے ہوئے عدالت نے کہاکہ عوامی احتجاج ناراضگی کی شکل ہوسکتے ہیں اور حکومتی پالیسیوں پر بے اطمینانی کا اشارہ بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس کا اظہار پرامن احتجاج کے ذریعہ ہونا چاہئے ۔ یہ رپورٹ ایک انگریزی روزنامہ میں 28 مارچ کو شائع ہوئی جبکہ بی پی ای ڈی (بیچلرس آف فزیکل ایجوکیشن) کے احتجاجیوں نے ودھان سبھا مارگ پر تین گھنٹے تک ٹرافک روک دی تھی۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اس احتجاج سے ٹرافک بری طرح متاثرہوئی اور اسکولی بچوں ، کالج کے اسٹوڈنٹس اور آفس جانے والوں کو بڑی دقت پیش آئی۔ عدالت نے رپورٹ شائع ہونے کے دن ہی اس بات کا نوٹ لیا اور اس ضمن میں آرڈر ہائیکورٹ کی جانب سے گزشتہ روز ’اپ لوڈ ‘ کیا گیا ۔ دریں اثناء غازی آباد میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ویبھوا کرشنا نے بتایا کہ پسماندہ طبقات سے متعلق قانون کے دفعات کو ’’نرم ‘‘ کرنے کے خلاف حالیہ احتجاجوں کے دوران یہاں عوامی اور حکومتی املاک کو نقصان پہونچانے اور زبردست ہنگامہ برپا کرنے کی پاداش میں تقریباً5,000 افراد کو ماخوذ کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ پولیس نے پانچ ہزار غیرشناخت شدہ افراد کے خلاف رپورٹس درج کئے اور تعزیرات ہند کے مختلف دفعات کے تحت 285 شر پسندوں کو نامزد بھی کیا ہے ۔ ابھی تک 32 احتجاجیوں کو گرفتار کرلیا گیا اور دیگر کو پکڑنے کیلئے دھاوے کئے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایس ایس پی نے گزشتہ روز بتایا کہ پولیس نے شہری علاقوں میں 43 مقامات پر اس ضلع کے دیہی علاقوں میں 17 مقامات کی نہایت حساس جگہوں کے طورپر نشاندہی کی ہے جہاں احتجاجی دوبارہ نقص امن کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ان جگہوں پر بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے ۔ ایس ایس پی نے کہاکہ پیرکو ایجی ٹیشن کے دوران پیش آئی گڑبڑ میں 9 پولیس والے زخمی ہوئے اور ہنوز زیرعلاج ہیں۔ سپریم کورٹ نے 20 مارچ کو پسماندہ طبقات کے قانون کے تحت ازخود گرفتاریاں اور مقدمات کے اندراج پر پابندی عائد کی۔

TOPPOPULARRECENT