Wednesday , January 24 2018
Home / عرب دنیا / لکھوی بے قصور ہیں ، ہندوستان کے پاس کوئی ثبوت نہیں: حافظ سعید

لکھوی بے قصور ہیں ، ہندوستان کے پاس کوئی ثبوت نہیں: حافظ سعید

لاہور ۔4 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ممنوعہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید نے آج یہ دعویٰ کیا ہے کہ ذکی الرحمن لکھوی بے قصور ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان 2008ء ممبئی حملے کیلئے انھیں سزاء دینے کے مقصد سے اقوام متحدہ اور امریکہ کے ذریعہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان کے پاس لکھوی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ۔

لاہور ۔4 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ممنوعہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید نے آج یہ دعویٰ کیا ہے کہ ذکی الرحمن لکھوی بے قصور ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان 2008ء ممبئی حملے کیلئے انھیں سزاء دینے کے مقصد سے اقوام متحدہ اور امریکہ کے ذریعہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان کے پاس لکھوی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اُس نے مایوسی کے عالم میں اقوام متحدہ اور امریکہ سے رابطہ قائم کیا تاکہ حکومت پاکستان پر لکھوی کو سزاء دینے کیلئے دباؤ ڈالا جاسکے ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان اور اقوام متحدہ کو پاکستان کے نظام عدلیہ میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ہندوستان نے ماضی میں کبھی بھی پاکستانی عدالتوں کے فیصلے قبول نہیں کئے ۔ انھوں نے کہا کہ لکھوی بے قصور ہے اور ممبئی حملہ مقدمہ میں اُن کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ۔ حافظ سعید کا یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا جبکہ ہندوستان نے لکھوی کا معاملہ اقوام متحدہ سے رجوع کیا ہے۔ اُس نے ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے لکھوی کی پاکستانی جیل سے رہائی پر تشویش ظاہر کی اور اسے عالمی ادارے کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کمیٹی نے ہندوستان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ آئندہ اجلاس میں لکھوی کے مسئلہ کا جائزہ لے گی ۔ اس دوران پاکستان کی حکومت پنجاب نے ذکی الرحمن لکھوی کو رہا کرنے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواست پر سپریم کورٹ سے عاجلانہ سماعت کی خواہش کی ہے ۔ پنجاب اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل شان گل نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ سے خواہش کی ہے کہ وہ حکومت پنجاب کی اس درخواست کی عاجلانہ سماعت کرے ۔ دوسری طرف لکھوی کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے جب اُن کے موکل کے بارے میں اپنا فیصلہ سنادیا تو اس کے بعد سپریم کورٹ میں حکومت کی درخواست کوئی معنی نہیں رکھتی ۔

TOPPOPULARRECENT