Sunday , January 21 2018
Home / اداریہ / لکھوی کی رہائی کے احکام

لکھوی کی رہائی کے احکام

عجیب شہر ہے موذی تو ہیں یہاں آزاد مگر شریفوں کو ملتا ہے صرف دار و رسن لکھوی کی رہائی کے احکام

عجیب شہر ہے موذی تو ہیں یہاں آزاد
مگر شریفوں کو ملتا ہے صرف دار و رسن
لکھوی کی رہائی کے احکام
اسلام آباد ہائیکورٹ نے لشکرطیبہ کے عسکریت پسند ذکی الرحمن لکھوی کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے فوری رہا کردینے کے احکام جاری کردئے ہیں۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے لکھوی کو برقراری عوامی نظم قانون کے تحت حراست میں رکھنے کے احکام کو دوسری مرتبہ مسترد کرتے ہوئے ایک طرح سے اسے مسائل کا شکار کردیا ہے ۔ حکومت کو ایک جانب عدالت کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے تو دوسری جانب لکھوی کی رہائی کی صورت میں اسے ہندوستان اوردوسرے ممالک کی تنقیدوں کا سامنا کرنا بھی پڑسکتا ہے ۔ آج اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اس کی رہائی کے احکام کی اجرائی کے بعد ہندوستان نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ ہندوستان نے پاکستانی ہائی کمشنر متعینہ نئی دہلی عبدالباسط کو طلب کرتے ہوئے شدید احتجاج درج کروایا ہے اور کہا کہ پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ لکھوی حراست ہی میں رہے اور اسے رہا ہونے سے روکنے کیلئے تمام ضروری قانونی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ ہندوستان کا یہ بھی الزام ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں نے لکھوی کے خلاف جو ٹھوس ثبوت و شواہد ہیں انہیں موثر انداز میں عدالت میں پیش نہیں کیا ہے جس کے نتیجہ میں لکھوی کی رہائی کیلئے عدالت سے احکام کی اجرائی عمل میں آئی ہے ۔ اب بھی حکومت پاکستان کو کسی تاخیر کے بغیر ثبوت و شواہد عدالت میں پیش کرنے چاہئیں تاکہ اس کی رہائی کو روکا جاسکے ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب لکھوی کو عدالت سے راحت ملی ہے ۔ اس سے قبل بھی ایک پاکستانی عدالت نے لکھوی کو رہا کردینے کا حکم جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے ۔ سابقہ احکام کے فوری بعد حکومت نے برقراری عوامی نظام قانون کے تحت اسے حراست میں رکھنے کے احکام جاری کئے تھے ۔ اس طرح کے تازہ ترین احکام کی مدت آئندہ ہفتے ختم ہونے والی تھی ۔ تاہم عدالت نے حکومت کے احکام کے خلاف لکھوی کی اپیل پر اپنا فیصلہ جاری کرتے ہوئے اس کی حراست کو غلط قرار دیدیا ہے ۔ عدالت کے احکام کے بعد اب کسی بھی وقت لکھوی کو جیل سے رہا کیا جاسکتا ہے جس پر ہندوستان کا شدید اعتراض ہے ۔
پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی حمایت ایک ایسا مسئلہ رہا ہے جس پر ہمیشہ ہی مباحث کی گنجائش رہی ہے ۔ کئی موقعوں پر سرکاری سطح پر دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کے واضح ثبوت و شواہد موجود ہیں ۔ شائد اسی پالیسی کا خمیازہ آج پاکستان کو خود بھی بھگتنا پڑ رہا ہے کیونکہ وہاں بھی دہشت گردوں کے حملے عام ہوگئے ہیں اور بے گناہ عوام زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ دہشت گردی کی وجہ سے ہی پاکستان کو دنیا بھر میں مسائل کا سامنا ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی راہ میں بھی دہشت گردی ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ چاہے یہ کشمیر کے تعلق سے ہو یا دیگر امور کے تعلق سے ہو۔ پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد نیٹ ورک اور انفرا اسٹرکچر کی موجودگی پاکستان کے ان دعووں کی توثیق کی راہ میں رکاوٹ ہے کہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے بہت کچھ کر رہا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں حالانکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں ضرور کی گئی ہیں لیکن یہ ضرورت کے مطابق نہیں تھیں۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ یہ دکھاوے کی کارروائیاں تھیں جن سے دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاسکے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کچھ کر رہا ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ باہمی تعلقات کا جہاں تک معاملہ ہے اس میں بھی پاکستان کو اپنی سنجیدگی کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے اور یہ ثبوت اسی وقت دیا جاسکتا ہے جب دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ کارروائی کی جائے ۔
اب ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی کے احکام بھی پاکستانی حکومت کی سنجیدگی پر سوال پیدا کرتے ہیں۔ حکومت نے اس کی حراست کیلئے احکام تو جاری کئے لیکن اس نے ان احکام کی مدافعت میں وہ ٹھوس ثبوت عدالتوں میں پیش نہیں کئے جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث رہا ہے ۔ گذشتہ عرصہ کے تعطل کے بعد ہند پاک تعلقات میں معمولی بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی اور ہندوستان کے معتمد خارجہ جئے شنکر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا ۔ اس دورہ سے حالات کو مزید بہتر بنانے استفادہ کرنے اور آگے پیشرفت کرنے کی بجائے پھر اس طرح کے حالات پیدا ہو رہے ہیں جن سے تعلقات کی سرد مہری ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ سکتی ہے ۔ لکھوی کی حراست اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے اور اسے یہ ذمہ داری پوری کرنی چاہئے ۔ ایسا کرنا خود اس کے مفاد میں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT