Tuesday , December 11 2018

لیبیا میں 12 طیارے لاپتہ، امریکہ اور مغربی ممالک تشویش میں مبتلا

واشنگٹن 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور اس کے حلیفوں پر آج بھی 9/11 فضائی حملوں کی دہشت طاری ہے۔ امریکہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں دہشت گردوں کے ان فضائی حملوں کو ایک خوفناک خواب تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں کئے گئے دہشت گردانہ فضائی حملوں کیلئے مغربی حکومتوں اور انٹلیجنس ایجنسیوں نے القاعدہ اور اس

واشنگٹن 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور اس کے حلیفوں پر آج بھی 9/11 فضائی حملوں کی دہشت طاری ہے۔ امریکہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں دہشت گردوں کے ان فضائی حملوں کو ایک خوفناک خواب تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں کئے گئے دہشت گردانہ فضائی حملوں کیلئے مغربی حکومتوں اور انٹلیجنس ایجنسیوں نے القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن بعض مغربی محققین نے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہیکہ امریکہ پر کئے گئے فضائی حملے القاعدہ کی نہیں بلکہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹوں کی کارستانی ہے۔ حال ہی میں عالمی میڈیا میں ایک اور سنسنی خیز خبر گشت کرنے لگی ہے اور وہ لیبیا کے دارالحکومت تریپولی سے متعلق ہے۔ کرنل معمر قذافی کی معزولی اور ان کے قتل کے بعد لیبیا میں حکومت اور اسلام پسندوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ اس ملک میں اسلام پسندوں کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پتہ چلا ہیکہ تریپولی سے کم از کم 11 کمرشیل طیارے غائب کردیئے گئے ہیں۔ طیاروں کے اچانک لاپتہ ہونے کی اطلاعات منظرعام پر آنے کے ساتھ ہی امریکی حکومت اور اس کی انٹلیجنس ایجنسیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

چنانچہ امریکی انٹلیجنس ایجنسیاں اب کھلے طور پر انتباہ دے رہے ہیں کہ امریکی شہروں کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانے کیلئے ان طیاروں عصری ہتھیاروں سے لیس کرتے ہوئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی طرح دیگر مغربی ممالک میں بھی ان طیاروں کے بارے میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ مغربی انٹلیجنس ایجنسیوں نے بھی حال ہی میں ایک وارننگ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا کہ ان لاپتہ طیاروں کو شمالی افریقہ میں دہشت گردانہ حملوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ فری بیکن میں شائع رپورٹ میں انٹلیجنس ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ 9/11 حملوں کی ہولناک یادیں تازہ کرنے کیلئے فضائی دہشت گردانہ حملے جاریہ ماہ کے اواخر میں کرسکتے ہیں اور اس کارروائی میں ایک یا دو طیارے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

مغربی حلقوں میں تہلکہ بلکہ دہشت مچانے والی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیبیا میں اسلام پسندوں نے گذشتہ ماہ ہی ایک درجن کمرشیل طیارے اپنے کنٹرول میں کرلئے ہیں اور مغربی انٹلیجنس ایجنسیوں کا کہنا ہیکہ ان طیاروں میں سے بعض کو جنوبی افریقی ممالک پر دہشت گردانہ حملوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ان لاپتہ طیاروں کے بارے میں خفیہ اطلاعات کی امریکی حکومت کی تمام ایجنسیوں میں تقسیم عمل میں آئی۔ امریکی شہری ہوا بازی کے ماہرین کا خیال ہیکہ سب سے اہم بات یہ ہیکہ دہشت گردوں کو اپنی زندگیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ ایسا لگتا ہیکہ وہ موت کا بڑی تیزی سے پیچھا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس زندگی ان کا تعاقب کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر پائلٹ پیشہ ورانہ مہارت کا حامل ہو تو وہ فضائی نگرانی کرنے والے عہدیداروں کو بھی چکمہ دے سکتا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک دہشت گردوں کے فضائی حملوں کا اپنے شہروں اور اہم مقامات کو نشانہ بننے سے روکنے کیلئے فضاء میں ہی ان طیاروں کو دھماکوں سے اڑا سکتے ہیں اور خود کو بچانے کیلئے ایسا کرنا بھی پڑتا ہے۔ تاہم دشمن کے طیاروں کو ایسے علاقوں میں نشانہ بنانا ہوگا جہاں آبادی نہ ہو۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ دنیا میں کئی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو کھلے عام امریکہ کو تباہ کرنے کی خواہش اور عزم کا اظہار کررہے ہیں اور یہ دہشت گرد، حیاتیاتی، کیمیائی اور جوہری محاذوں اور مواد تک رسائی کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT