Sunday , December 17 2017
Home / دنیا / لیبیا کی خواہش کے بغیر مداخلت سے انکار

لیبیا کی خواہش کے بغیر مداخلت سے انکار

دولت اسلامیہ کے خلاف بغیر خواہش کے کارروائی نہیں کی جائے گی  : یوروپی یونین
پیرس ۔21فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) یورپ جنگ زدہ ملک لیبیا میںدولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف اُسی صورت میں فوجی کارروائی کرے گا جب کہ سرکاری طور پر جائز حکومت کی جانب سے اس کی درخواست کی جائے ۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے فرانسیسی روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا ۔ اعلیٰ سطحی سفارت کار فریڈریکی موغرینی نے رسالہ ’’ ڈو ڈیمانج‘‘ سے کہا کہ دولت اسلامیہ گروپ کے خلاف جو لیبیا میںاپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرتا جارہا ہے جب کہ ملک انتشار کی زد میں ہے اور طویل مدت سے ڈکٹیٹر کرنل معمر قذافی  کی 2011 میں اقتدار سے بیدخلی کے بعد لیبیا سیاسی انتشار کا شکار ہے ۔ امریکہ دولت اسلامیہ کے خلاف شام میں دھاوے کررہا ہے ۔ جب کہ دو سربیائی یرغمالوں سمیت دیگر کئی یرغمال دولت اسلامیہ کے غیرقانونی قید خانے میں ہیں ۔ لیبیا کے انتشار میں مزید اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ 2014سے ایک متوازی حکومت قائم ہوچکی ہے ۔

عسکریت پسند اتحاد بشمول اسلام پسندوں نے دارالحکومت طرابلس پر حملہ کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر مسلمہ حکومت کو مشرقی لیبیاء کے علاقہ میں منتقل ہونے پر مجبور کردیا ۔ کئی ماہ تک اقوام متحدہ کی ثالثی کے ذریعہ امن مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے اب اتفاق کیا ہے کہ ایک متحدہ حکومت کی تائید کی جائے گی ۔ کل نامزد وزیراعظم فیاض السراج نے نئی حکومت کے منصوبے پیش کئے ۔ فریڈریکی موغرینی نے کہا کہ آئندہ چند لیبیا کیلئے انتہائی اہم ہے ۔ منگل کے دن پارلیمنٹ میں نئی حکومت خطہ اعتماد کروائی گئی ۔ یورپ لیبیا کی صیانت اور انتظامیہ کیلئے ہر قسم کی مدد دینے کیلئے تیار ہے ۔ بشرطیکہ منتخبہ حکومت کی جانب سے اس کی ضرورت محسوس کی جائے اور یوروپی یونین سے درخواست کی جائے ۔ موغرینی نے کہا کہ ہم ایک قومی متحدہ حکومت تشکیل دینے کی کوششوں کی کئی ماہ سے تائید کرتے آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں مدد دینا چاہتے ہیں لیکن انہیں ہم پر اعتماد ہونا چاہیئے کیونکہ بہرحال وہ اپنے ملک کو ہم سے بہتر جانتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT