Tuesday , January 23 2018
Home / عرب دنیا / لیبیا کے داخلی حالات انتہائی سنگین اور کربناک:ایمنسٹی

لیبیا کے داخلی حالات انتہائی سنگین اور کربناک:ایمنسٹی

طرابلس 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ظلم و ستم کی انتہا ہے جس نے ملک کی عوام کو سرحد پار کر کے یوروپی ممالک کی جانب رُخ کرنے پر مجبور کردیا ہے تاہم ایسا کرنے میں بھی اُن کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ عرصہ دراز تک لیبیا افریقی باشندوں کا مرکز توجہ رہا جہاں وہ ب

طرابلس 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ظلم و ستم کی انتہا ہے جس نے ملک کی عوام کو سرحد پار کر کے یوروپی ممالک کی جانب رُخ کرنے پر مجبور کردیا ہے تاہم ایسا کرنے میں بھی اُن کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ عرصہ دراز تک لیبیا افریقی باشندوں کا مرکز توجہ رہا جہاں وہ بہتر زندگی کا خواب لیکر آئے تھے۔ شام کے ایسے پناہ گزیں جو ملک کی خانہ جنگی کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں وہ بھی لیبیا کا رُخ کررہے ہیں تا کہ اس طرح اُن کی یوروپ جانے کی راہ ہموار ہوجائے ۔ تارکین وطن کیلئے یہاں کے حالات اب ہرگز ساز نہیں ہیں کیونکہ ہر طرف لا قانونیت کا بول بالا ہے اور مسلح جھڑپیں اکثر و بیشتر ہوتی رہتی ہیں ۔ ایمنسٹی کے فلپ لوتھز نے کہا کہ لیبیا کے حالات کا اگر تفصیلی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ وہاں اب زندگی گذارنا کتنا مشکل ہوچکا ہے ۔ حالات میں بگاڑ اس وقت پیدا ہوا جب 2011 ء میں اُس وقت کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کو معزول کیا گیا کیونکہ عسکریت پسندوں کی نظر لیبیا میں تیل کی دولت پر تھی ۔ اس طرح حالات کا فائدہ اٹھانے میں اسمگلرس پیش پیش رہے ۔ موسم گرما میں سمندر میں تلاطم نہیں ہوتا اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آبی راستوں سے تارکین وطن کو یہاں لایا گیا ۔ غیر قانونی کا لیبل لگتے ہی تارکین وطن کے پاس دوسرا کوئی متبادل نہیں ہوتا تھا۔ نہ وہ لوٹ کر اپنے وطن جاسکتے تھے نہ پولیس کو اس کی اطلاع دے سکتے تھے لہذا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ تمام اسمگلرس کے ہاتھوں کا کھلونا بنتے رہے اور اسمگلرس ان کا جی بھر کے استحصال کرتے رہے اور حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ اُن کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک بھی کیا جانے لگا جبکہ خاتون تارکین وطن کی جیسا کہ توقع کی جارہی تھی‘ یہ شکایت تھی کہ اُن کا جنسی استحصال کیا جارہا ہے جبکہ ایک خاتون نے رونگٹے کھڑے کردینے والی بات بتائی کہ ایک دو نہیں بلکہ گیارہ مردوں نے اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی ۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ اس کے شوہر کو قریب ہی ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور اپنی بیوی کی اجتماعی عصمت ریزی کا منظر دیکھتا رہا اور چیختا رہا۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی یہ شکایت بھی ہے کہ لیبیا کی اپنے غیر قانونی تارکین وطن کو ایسے قید خانوں میں رکھے جانے کی پالیسی بھی غلط ہے جہاں کے حالات انتہائی سنگین ہیں۔

TOPPOPULARRECENT