Wednesday , December 19 2018

لیتہ القدر کی قدر سے تقدیر بنتی ہے

مدن پلی /22 جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) رمضان کی 23 ویں رات میں شب قدر کی تلاش مںی شہر مدن پلی میں کثیر تعداد میں اللہ کے بندوں نے عبادات ، ذکر و اذکار کا اہتمام کیا ۔ بعد نماز تراویح تامل ناڈو کی مشہور و معروف درسگاہ مدرسہ سعیدیہ کے مہتمم مولانا ایوب رحمانی نے اپنے خطاب میں شب قدر کی فضیلتیں اور قرآ۔ کریم کے نزول کے تعلق سے بیان فرماتے ہ

مدن پلی /22 جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) رمضان کی 23 ویں رات میں شب قدر کی تلاش مںی شہر مدن پلی میں کثیر تعداد میں اللہ کے بندوں نے عبادات ، ذکر و اذکار کا اہتمام کیا ۔ بعد نماز تراویح تامل ناڈو کی مشہور و معروف درسگاہ مدرسہ سعیدیہ کے مہتمم مولانا ایوب رحمانی نے اپنے خطاب میں شب قدر کی فضیلتیں اور قرآ۔ کریم کے نزول کے تعلق سے بیان فرماتے ہوئے عصر حاضر کی پریشانیوں کا حل قرآن کریم میں تلاش کرنے پر زور دیا ۔ اللہ تعالی اپنے بندوں پر رحم و کریم کا معاملہ کرتے ضرور ہیں مگر یہ سمجھ کر ہر دن گناہ پر گناہ کرتے جائیں تو اللہ کی پکڑ سے کوئی بچ نہیں پاتا ۔ مولانا نے کہا کہ ا للہ رب العزت دو طرح کے لوگوں سے سخت ناراض ہوتے ہیں ایک نافرمان اور دوسرا غیر ذمہ دار ، نافرمان کا تو فیصلہ دوزخ ہے ۔ غیر ذمہ دار اپنے ایمان کے باوجود اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں پاتے ۔ اسی ڈر کی وجہ سے حضرت عمرؓ اپنے دور خلافت میں اتنا درتے تھے کہ لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کرتے کہ اللہ تعالی نے مجھے خلافت کا ذمہ دار بنایا ہے تو میرے ذمہ ہے کہ ہر کوئی انسان اور جانور چرند پرند سب کا خیال رکھوں ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی کتا میرے دور خلافت میں بھوکا سوجائے اور کل قیامت میں اللہ تعالی مجھ سے اس بارے میں سوال کریں ۔ مولانا نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اللہ تعالی اپنے نیک بندے جو اپنی ذمہ داری کا ہر وقت خیال کرتے ہیں تو ان کے حوالے ساری بادشاہت کردیتے ہیں ۔ مولانا نے کہا کہ ہر ایک اپنے ذمہ داری کو نبھاتے جائیں تو اللہ تعالی زمین کی حکومت اپنے نیک بندوں کے حوالے کردے گا ۔مزید مولانا نے ایک اہم امور کی طرف سامعین کی توجہ مبذول فرماتے ہوئے کہا کہ جب ہم کلمہ طیب پڑھ لیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اللہ کی وحدانیت کو قبول فرمالیا اور سب کچھ اسی کی ذات سے ہونے پر ایمان لایا اور محمد ﷺ کو اپنا نبی اور ہماری زندگی کا ماڈل مان لیا ۔ مگر افسوس کہ زبان سے ہم محمد ﷺ کو اپنا ماڈل بتاتے ہیں مگر عمل سے نفس کو ماڈل قرار دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر فرمایا کہ ہم اپنی شادیوں کیلئے شریعت کو ختم کرتے ہیں اور یہی ہمارے نبی ﷺ شریعت کیلئے اپنی لخت جگر کی زندگیوں کو داؤ پر لگایا ۔ حضور ﷺ کو اذیت پہونچانے کیلئے ان کی دو بیٹیوں کو کفار مکہ نے طلاق دلوایا ۔ مگر حضور ﷺ نے دین کیلئے یہ تکلیف برداشت کرلی تو بعد میں حضرت عثمان غنیؓ جیسے داماد ملے ۔ آج بھی ہم اپنی مرضیات اور نفسیاتی خواہشات کو چھوڑ کر شریعت محمدیﷺ کو اپنائیں تو ہماری اولاد کی زندگیوں میں سرخروشی پائی جائے گی ۔ سورہ قدر کی تشریح فرماتے ہوئے مولانا نے کہا کہ سورہ قدر میں لفظ ’’ قدر‘‘ تین مرتبہ دہرایا گیا ہے ۔ جس کی تفسیر میں مفسرین نے کہا کہ قدر کے ایک معنی قدر و منزلت و اکرام کے ہیں جو کوئی بندہ اس رات کی قدر کرتا ہے تو اس کی قدر و منزلت بڑھادی جاتی ہے ۔ دوسرا معنی قدر کے یہ ہیں کہ اس رات میں تقدیر بننے اور بگڑنے کی رات ہے ۔ جو اس کی قدردانی کرتا ہے اس کی تقدیر بنتی ہے اور ناقدری کرکے ہوٹلوں اور دوسری جگہ پر گذارتا ہے تو اس کی تقدیر بگڑتی ہے اور تیسرا معنی تنگی سے ہے کہ اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور فرشتوں کا جم غفیر دنیا میں حضرت جبرئیل کے ساتھ اترتا ہے اور جو صحیح معنوں میں عبادت کرتا ہے اور اللہ سے سچی توبہ کرتا ہے تو اس سے مصافحہ کرتے ہیں ۔ اس لئے اس رات کی قدر کرتے ہوئے صرف ستائیسویں رات تک محدود نہ ہوتے ہوئے حدیث کے حکم کے مطابق آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کریں ۔ اس اجلاس کا آغاز حافظ عبدالباری کی مترنم گو آواز میں نعت شریف سنائی ۔

TOPPOPULARRECENT