Tuesday , December 18 2018

لیفٹننٹ گورنر کیلئے چیف منسٹر سے مشاورت کرنا ضروری نہیں

نئی دہلی 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) لیفٹننٹ گورنر اور چیف منسٹر کے مابین جاری تنازعہ کے دوران مرکز نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کی حمایت کی ہے۔ مرکز نے یہ واضح کردیا کہ گورنر کیلئے یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ بیوروکریٹس کے تقرر جیسے مسائل پر چیف منسٹر سے مشاورت کریں۔ آج جاری کردہ ایک گزٹ اعلامیہ میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ لیفٹننٹ گور

نئی دہلی 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) لیفٹننٹ گورنر اور چیف منسٹر کے مابین جاری تنازعہ کے دوران مرکز نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کی حمایت کی ہے۔ مرکز نے یہ واضح کردیا کہ گورنر کیلئے یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ بیوروکریٹس کے تقرر جیسے مسائل پر چیف منسٹر سے مشاورت کریں۔ آج جاری کردہ ایک گزٹ اعلامیہ میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ لیفٹننٹ گورنر کا دائرہ کار عوامی خدمات‘ عوامی نظم پولیس اور اراضیات جیسے امور پر رہے گا اور جب کبھی وہ ضروری سمجھے چیف منسٹر سے مشاورت کرسکتے ہیں۔ اعلامیہ میںکہا گیا ہے کہ جہاں کہیں کوئی مقننہ اختیارات نہ ہو وہاں کوئی عاملہ اختیارات بھی نہیںہوتے کیونکہ عاملہ اختیارات ‘ مقننہ اختیارات کے تحت ہی باہم مربوط ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عوامی نظم ‘پولیس ‘اراضیات اور خدمات جیسے امور دارالحکومت دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے دائرہ کار سے باہر ہیں اور اس صورت میں دہلی کی حکومت کے بھی کوئی عاملہ اختیارات ان امور پر نہیں ہوتے ۔ گزٹ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ لیفٹننٹ گورنر ‘عوامی نظم ‘پولیس ‘اراضیات اور خدمات کے شعبہ جات میں اختیار رکھتے ہیں اور اس حد تک تمام کام کرسکتے ہیں جہاں تک انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے وقفہ وقفہ سے اختیارات سونپے جاتے ہیں۔

کہا گیا ہے کہ یہ گورنر ہی کا اختیار تمیزی ہے کہ وہ بیوروکریٹس کے تقرر یا خدمات کے دیگر امور میں جب کبھی مناسب اور ضروری سمجھے چیف منسٹر سے رائے حاصل کریں۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ انسداد کرپشن محکمہ کے پولیس اسٹیشن میں مرکزی حکومت کی خدمات انجام دینے والے عہدیداروں ‘ملازمین اور اہلکاروں کے خلاف شکایت پر کارروائی نہیں کی جانی چاہئے ۔ تازہ اعلامیہ سابق میں1998میں جاری کردہ اعلامیہ کی تنسیخ کا باعث ہوگا ۔ سینئر بیوروکریٹس شکنتلا گیملن کو لیفٹننٹ گورنر کی جانب سے کارگذار چیف سکریٹری مقرر کئے جانے کے بعد دہلی میں لیفٹننٹ گورنر اور چیف منسٹر کے مابین زبردست تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ چیف منسٹر اروند کجریوال نے ایسے تقررات پر گورنر کے اختیارات کو چیلنج کیا ۔ کجریوال نے اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی مداخلت کی خواہش کی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ مرکزی حکومت دہلی پر گورنر کے ذریعہ اپنا تسلط چاہتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT